پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسز نے 29 بوتل بند پانی کے برانڈز کو انسانی استعمال کے لیے غیر محفوظ قرار دے دیا ہے۔ ملک بھر سے لیے گئے نمونوں کی لیبارٹری رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ان برانڈز میں کیمیائی اور جراثیمی آلودگی کی مقدار انسانی صحت کے لیے شدید خطرہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق، بڑے شہروں سے اکٹھے کیے گئے ان نمونوں میں آرسینک، سوڈیم اور پوٹاشیم کی مقدار مقررہ حد سے کہیں زیادہ پائی گئی۔ کئی نمونوں میں بیکٹیریل آلودگی بھی موجود تھی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ متعلقہ کمپنیوں کے پلانٹس پر پانی کی فلٹریشن اور جراثیم کشی کا عمل یا تو موجود ہی نہیں یا مکمل طور پر ناکارہ ہو چکا ہے۔
عام شہری کے لیے یہ ایک بڑا دھچکا ہے۔ پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں جیسے ہیضہ، ٹائیفائیڈ اور پیچش سے بچنے کے لیے لوگ بوتل بند پانی کو ترجیح دیتے ہیں۔ اب یہی "محفوظ” سمجھا جانے والا پانی خود بیماری کا ذریعہ بن چکا ہے۔
ممنوعہ قرار دیے گئے برانڈز میں سے کئی مقامی دکانوں اور سڑک کنارے واقع کھوکھوں پر آسانی سے دستیاب ہیں۔ حکام کے مطابق، ان کمپنیوں کو متعدد بار وارننگ دی گئی اور معیار بہتر کرنے کی ہدایت کی گئی، لیکن انہوں نے حکومتی احکامات کو نظر انداز کرتے ہوئے زہریلا پانی مارکیٹ میں سپلائی کرنا جاری رکھا۔
تحقیقات سے واقف ایک عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ "ہمارا مقصد صرف فہرست جاری کرنا نہیں، بلکہ ان پلانٹس کو تب تک بند کروانا ہے جب تک وہ یہ ثابت نہ کر دیں کہ ان کا پانی پینے کے قابل ہے۔”
یہ پہلا موقع نہیں جب پانی کے معیار پر سوال اٹھائے گئے ہوں، لیکن تازہ ترین نتائج ریگولیٹری نظام کی ناکامی کو ظاہر کرتے ہیں۔ کا کام پانی کا معیار چیک کر کے رپورٹ کرنا ہے، جبکہ مارکیٹ سے ناقص مال اٹھانا اور فیکٹریوں کو سیل کرنا صوبائی فوڈ اتھارٹیز کی ذمہ داری ہے، جن کی سست روی اکثر تنقید کا نشانہ بنتی ہے۔
فی الحال، ماہرینِ صحت نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ پانی کو ابال کر یا تصدیق شدہ فلٹر پلانٹس سے حاصل کریں۔ جب تک یہ ناقص پانی مارکیٹ سے غائب نہیں ہوتا، تب تک لاکھوں صارفین بیماریوں کے براہِ راست خطرے کی زد میں رہیں گے۔
