اوٹاوا اور واشنگٹن کے درمیان تجارتی مذاکرات بدھ کی رات کسی پیش رفت کے بغیر ختم ہو گئے، جس سے شمالی امریکہ کے دو بڑے تجارتی شراکت داروں کے درمیان کشیدگی ایک خطرناک موڑ پر پہنچ گئی ہے۔
مذاکرات کی ناکامی کی بنیادی وجہ ایلومینیم اور اسٹیل پر مجوزہ امریکی ٹیرف (ٹیکس) پر ڈیڈ لاک ہے۔ کینیڈین وفد نے اپنی صنعتوں کو بچانے کے لیے ان ٹیرف سے استثنیٰ کا مطالبہ کیا تھا، تاہم امریکی حکام نے اپنی ملکی صنعت کے تحفظ کا حوالہ دیتے ہوئے کسی قسم کی رعایت دینے سے صاف انکار کر دیا۔
یہ تعطل صرف سفارتی محاذ تک محدود نہیں رہے گا۔ کینیڈا کے کاروباری حلقوں کے لیے یہ ایک بڑا دھچکا ہے، کیونکہ دونوں ممالک کی سپلائی چین دہائیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ اگر امریکہ کینیڈین مصنوعات پر 10 فیصد اضافی ٹیرف عائد کرتا ہے، تو لکڑی سے لے کر پیٹرولیم مصنوعات تک ہر چیز کی قیمتوں میں فوری اضافہ ہو گا۔ جوابی کارروائی کے طور پر اوٹاوا بھی امریکی اشیاء پر ٹیکس لگانے کی تیاری کر رہا ہے، جس سے ایک تباہ کن تجارتی جنگ کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
ایک اعلیٰ تجارتی مشیر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، "ہم ایک ایسی دیوار سے ٹکرا گئے ہیں جہاں سمجھوتہ ممکن نہیں دکھائی دیتا۔ امریکی ٹیم کسی درمیانی راستے کی تلاش میں نہیں، بلکہ وہ تجارتی شرائط کو مکمل طور پر نئے سرے سے ترتیب دینا چاہتی ہے، جسے تسلیم کرنا کینیڈا کی اپنی صنعتوں کو داؤ پر لگانے کے مترادف ہے۔”
امریکی انتظامیہ کا موقف اپنے ‘بائے امریکن’ ایجنڈے پر مبنی ہے، جس کا مقصد امریکی ورکرز کے مفادات کا تحفظ ہے۔ دوسری طرف کینیڈا کا کہنا ہے کہ شمالی امریکہ کی معیشت اس قدر مربوط ہے کہ اس طرح کے ٹیرف دراصل امریکی صارفین کے لیے ہی مہنگائی کا باعث بنیں گے۔
معاملہ صرف دھاتوں تک محدود نہیں۔ اس تنازع نے ان توانائی معاہدوں کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے جو امریکہ کی کئی ریاستوں کو بجلی فراہم کرتے ہیں۔ کینیڈا نے اشارہ دیا ہے کہ اگر تجارتی جنگ وسیع ہوئی تو وہ توانائی کی برآمدات پر نظر ثانی کر سکتا ہے، جس سے یہ سفارتی تنازع امریکہ کے لیے ایک بڑا داخلی بحران بن سکتا ہے۔
فی الحال دونوں دارالحکومتوں میں خاموشی ہے اور کوئی اگلی ملاقات طے نہیں کی گئی۔ ٹیرف کے نفاذ کی ڈیڈ لائن قریب ہے، اور شمالی امریکہ کا تجارتی منظرنامہ ایک ایسی غیر یقینی صورتحال میں داخل ہو چکا ہے جس کی مثال گزشتہ کئی دہائیوں میں نہیں ملتی۔
