بجوڑ اور گردونواح کے علاقوں میں گیس کی فراہمی دو روز کے لیے مکمل طور پر بند کر دی گئی ہے۔ سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) نے تنصیبات کی مرمت اور پائپ لائنز کی تبدیلی کے بہانے اس بندش کا اعلان کیا ہے، جس سے ہزاروں خاندان سردی میں گیس سے محروم ہو گئے ہیں۔
مرمت کا کام ہفتے کی صبح چھ بجے شروع ہوا جو کم از کم 48 گھنٹے تک جاری رہے گا۔ گیس حکام کا موقف ہے کہ پرانی پائپ لائنوں کے باعث پریشر میں کمی کی شکایات مستقل مسئلہ بن چکی تھیں، اور یہ اپ گریڈیشن موسم سرما کی شدت سے قبل ناگزیر تھی۔
علاقے کے مکینوں کے لیے یہ اعلان کسی بڑے دھچکے سے کم نہیں۔ رات کے اوقات میں درجہ حرارت نقطہ انجماد کے قریب پہنچ چکا ہے۔ گیس نہ ہونے کے باعث گھروں میں چولہے ٹھنڈے پڑ گئے ہیں، جس سے بچوں اور بزرگوں کے لیے مشکلات بڑھ گئی ہیں۔ مقامی بازاروں میں لکڑی اور ایل پی جی سلنڈرز کی قیمتوں میں اچانک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں دکانداروں نے طلب بڑھتے ہی نرخوں میں من مانی شروع کر دی ہے۔
چھوٹے کاروباری مراکز اور ہوٹل مالکان سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ مقامی ہوٹل کے مالک رحیم خان کا کہنا ہے کہ "دو دن کا مطلب صرف گیس کی بندش نہیں، ہمارے روزگار کا پہیہ رک جانا ہے۔ اگر چولہا نہیں جلے گا تو کسٹمر کہاں سے آئے گا؟”
ایس این جی پی ایل کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ اقدام سسٹم کو کسی بڑے حادثے سے بچانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ تاہم، عوامی حلقوں میں سخت بے چینی پائی جاتی ہے۔ اہلیانِ علاقہ کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی "مرمت” کے نام پر دی گئی ڈیڈ لائنز پر کام مکمل نہیں کیا گیا، جس کی وجہ سے صارفین کو کئی دن اضافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ضلعی انتظامیہ نے شہریوں کو متبادل انتظام کرنے کا مشورہ دیا ہے، مگر عام آدمی کے لیے مہنگائی کے اس دور میں متبادل ایندھن خریدنا ایک بڑا مالی بوجھ ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا ایس این جی پی ایل اپنی مقررہ ڈیڈ لائن پر کام مکمل کر کے بحالی یقینی بناتی ہے یا بجوڑ کے مکینوں کو سردی میں مزید طویل انتظار کرنا پڑے گا۔
