شہروں میں بڑھتی ہوئی شدید گرمی سے نمٹنے کے لیے حکام اکثر کنکریٹ کے نئے ڈھانچوں اور مصنوعی ٹھنڈک کے طریقوں پر انحصار کرتے ہیں، لیکن اصل حل سڑکوں کے کنارے کھڑے وہ پرانے درخت ہیں جنہیں ہم اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ حالیہ تحقیق سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ پرانے اور گھنے درختوں کی چھاؤں، نئے لگائے گئے پودوں کے مقابلے میں درجہ حرارت کم کرنے میں کئی گنا زیادہ مؤثر ہے۔
شہری مراکز میں بڑھتی ہوئی گرمی کے دوران، جن علاقوں میں پرانے درختوں کا سایہ موجود ہے، وہاں کا درجہ حرارت دوسرے علاقوں کی نسبت نمایاں طور پر کم رہتا ہے۔ یہ پرانے درخت صرف سایہ فراہم نہیں کرتے، بلکہ ’ٹرانسپیریشن‘ نامی عمل کے ذریعے فضا میں نمی خارج کرتے ہیں، جس سے مقامی درجہ حرارت میں نمایاں کمی آتی ہے۔
ایک تناور درخت، جس کی عمر کئی دہائیاں ہو، درجنوں چھوٹے پودوں کے برابر ٹھنڈک فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جب تعمیراتی منصوبوں کے لیے ان پرانے درختوں کو کاٹا جاتا ہے، تو شہر صرف ہریالی نہیں کھوتے، بلکہ وہ قدرتی ایئر کنڈیشنگ سسٹم بھی تباہ ہو جاتا ہے جسے دوبارہ تیار کرنے میں نصف صدی لگ سکتی ہے۔
اربن ایکولوجسٹ ڈاکٹر ایلینا راسی کا کہنا ہے کہ "ہم نئے پودے لگا کر اسے جنگلات کی بحالی کا نام دیتے ہیں، لیکن ایک چھوٹا پودا ساٹھ سال پرانے درخت کا متبادل نہیں ہو سکتا۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے آپ ہسپتال کی جگہ ایک چھوٹی سی فرسٹ ایڈ کٹ رکھ دیں۔”
اعداد و شمار کے مطابق، جن محلوں میں پرانے درختوں کی کٹائی کی گئی ہے، وہاں گرمی کی لہر کے دوران درجہ حرارت پانچ سے آٹھ ڈگری تک زیادہ ریکارڈ کیا جاتا ہے۔ یہ فرق ان لوگوں کے لیے جان لیوا ثابت ہوتا ہے جو سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہیں یا جن کی عمر زیادہ ہے۔
بدقسمتی سے، شہروں میں تعمیراتی قوانین اکثر ترقیاتی منصوبوں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں، نہ کہ قدرتی ماحول کو۔ بلڈرز کا مؤقف ہوتا ہے کہ بڑے درختوں کو بچانا تعمیراتی لاگت میں اضافہ کرتا ہے، لیکن وہ اس طویل مدتی نقصان کو نظر انداز کر دیتے ہیں جو گرمی کی شدت، بجلی کے بھاری بلوں اور صحت عامہ کے بحران کی صورت میں عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔
کچھ شہروں نے اب اپنی حکمت عملی تبدیل کرنا شروع کر دی ہے۔ نئے ضوابط کے تحت ڈویلپرز کے لیے یہ لازمی قرار دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی تعمیر سے قبل وہاں موجود "ہیریٹیج درختوں” (تاریخی درختوں) کو محفوظ بنانے کا منصوبہ پیش کریں۔ یہ تبدیلی ڈیزائن میں لانی ہوگی، نہ کہ زمین کے استعمال میں۔
درختوں کو محض سجاوٹی چیز سمجھنا بند کرنا ہوگا۔ انہیں عوامی صحت کا بنیادی ڈھانچہ تسلیم کرنا ہی وہ واحد راستہ ہے جس سے شہروں کو تپتے ہوئے کنکریٹ کے جنگلات بننے سے روکا جا سکتا ہے۔ جب تک یہ سوچ نہیں بدلے گی، گرمی کی شدت سب سے زیادہ کمزور طبقے کو ہی اپنا شکار بناتی رہے گی۔
