کیمبرج یونیورسٹی نے ایک امریکی ماہر تعلیم کو معطل کر دیا ہے جو یونیورسٹی کے پروفیسر جیسن آرڈے پر علمی سرقہ کے الزامات کی تحقیقات کی قیادت کر رہے تھے۔ اس اقدام نے یونیورسٹی کے اندرونی نظم و نسق اور علمی دیانتداری کے عمل پر شدید سوالات اٹھا دیے ہیں۔
معطل ہونے والے ماہرِ تعلیم، جو یونیورسٹی میں بطور وزیٹنگ پروفیسر خدمات انجام دے رہے تھے، کو یونیورسٹی انتظامیہ کے ساتھ مبینہ تنازع کے بعد ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ معطلی اس وقت عمل میں آئی جب انہوں نے یونیورسٹی کی جانب سے اپنے ہی ساتھی، پروفیسر جیسن آرڈے، کے خلاف کی جانے والی تحقیقاتی کارروائی پر کھل کر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔
چند ماہ قبل اس امریکی پروفیسر نے دعویٰ کیا تھا کہ آرڈے کی شائع شدہ تحقیق میں بغیر حوالہ دیے مواد شامل کیا گیا ہے۔ اس شکایت کے بعد یونیورسٹی کے اندرونی تحقیقاتی ادارے نے خفیہ طور پر معاملے کا جائزہ لینا شروع کیا، تاہم یونیورسٹی کی جانب سے اس معاملے پر خاموشی اختیار کی گئی ہے۔ اب شکایت کنندہ کی معطلی نے توجہ سرقہ کے ابتدائی الزامات سے ہٹا کر یونیورسٹی کی اپنی شفافیت پر مرکوز کر دی ہے۔
یونیورسٹی کے اندر کچھ حلقے اس اقدام کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جو شخص بدعنوانی کی نشاندہی کرے اسے ہی راستے سے ہٹا دینا یونیورسٹی کے علمی آزادی کے دعووں پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ دوسری جانب یونیورسٹی انتظامیہ کا موقف ہے کہ وہ کسی بھی انفرادی ملازم کے معاملے پر تبصرہ نہیں کر سکتے اور ان کا تحقیقاتی عمل "غیر جانبدارانہ اور سخت” ہے۔
پروفیسر جیسن آرڈے، جو 2023 میں کیمبرج کے کم عمر ترین بلیک پروفیسرز میں سے ایک بننے پر سرخیوں میں آئے تھے، نے ان الزامات پر تاحال کوئی عوامی ردعمل نہیں دیا ہے۔ ان کا علمی سفر یونیورسٹی میں تنوع اور شمولیت کی علامت سمجھا جاتا تھا، جس کے باعث یہ تنازع قیادت کے لیے انتہائی حساس بن چکا ہے۔
یونیورسٹی نے پرائیویسی پروٹوکول کا حوالہ دیتے ہوئے معطل ہونے والے پروفیسر کی شناخت ظاہر کرنے سے گریز کیا ہے۔ یہ معطلی ظاہر کرتی ہے کہ کیمبرج یونیورسٹی کے بند کمروں میں جاری یہ رسہ کشی ابھی تھمنے والی نہیں ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یونیورسٹی اپنی ساکھ کو بچانے کے لیے ان الزامات کو کیسے نمٹاتی ہے، کیونکہ اس معاملے نے علمی دنیا میں بحث کا ایک نیا دروازہ کھول دیا ہے۔
