پاکستان اور سعودی عرب نے زرعی تجارت اور غذائی تحفظ کے شعبوں میں باہمی تعاون کو نئی وسعت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ پیش رفت دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعلقات میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ ریاض اپنے ‘وژن 2030’ کے تحت غذائی سپلائی چین کو مستحکم کرنے کے لیے اسلام آباد کو ایک کلیدی شراکت دار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
اسلام آباد میں وفاقی حکام کے مطابق، اس تعاون کا دائرہ کار محض اجناس کی برآمدات تک محدود نہیں ہوگا، بلکہ اس میں لائیو سٹاک، موسمیاتی تبدیلیوں سے محفوظ فصلوں کی پیداوار اور کولڈ چین لاجسٹکس میں مشترکہ سرمایہ کاری شامل ہے۔ پاکستان کے لیے یہ معاہدہ اپنے فرسودہ زرعی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کا ایک سنہری موقع ہے۔
سعودی عرب کی جانب سے اس تعاون کا بنیادی مقصد اپنی غذائی ضروریات کو محفوظ بنانا ہے۔ ریاض نے پاکستان کے گوشت اور ڈیری کے شعبوں میں سرمایہ کاری کا عزم ظاہر کیا ہے تاکہ مقامی طلب کو پورا کیا جا سکے۔ سلاٹر ہاؤسز اور ڈیری پلانٹس کو بین الاقوامی معیار کے مطابق اپ گریڈ کرنے سے پاکستان اب خام مال کے بجائے ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی برآمدات کی طرف قدم بڑھا سکے گا۔
وزارتِ نیشنل فوڈ سیکیورٹی کے ایک اعلیٰ افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، "یہ صرف گندم یا چاول بیچنے کا معاملہ نہیں ہے۔ اس کا اصل مقصد ٹیکنالوجی کی منتقلی اور ایک ایسی سپلائی چین قائم کرنا ہے جو عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ سے متاثر نہ ہو۔”
ماہرین کا کہنا ہے کہ ماضی میں دونوں ممالک کے درمیان ایسے کئی معاہدے بیوروکریٹک رکاوٹوں اور پالیسیوں میں عدم تسلسل کی نذر ہوئے ہیں۔ اس بار دونوں حکومتوں نے پیش رفت کی نگرانی کے لیے ایک مشترکہ ٹاسک فورس قائم کی ہے، جس کا مقصد سرخ فیتے کی روایت کو ختم کرنا اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے راہ ہموار کرنا ہے۔
پاکستان کی معیشت اس وقت برآمدات کے محدود دائرے اور زرمبادلہ کے ذخائر کے دباؤ کا شکار ہے۔ خلیجی ممالک کو زرعی برآمدات میں اضافہ پاکستان کے لیے غیر ملکی کرنسی کے حصول کا ایک اہم ذریعہ بن سکتا ہے۔ دوسری طرف، سعودی عرب کے لیے یہ شراکت داری دور دراز اور غیر یقینی عالمی منڈیوں پر انحصار کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔
اگرچہ اس سرمایہ کاری کی حتمی مالیت کا اعلان نہیں کیا گیا، لیکن دونوں فریقین نے واضح کیا ہے کہ توجہ فوری نقد رقم کے بجائے طویل مدتی انفراسٹرکچر پر ہوگی۔ اب اصل امتحان یہ ہے کہ آیا اسلام آباد سعودی سرمایہ کاروں کا اعتماد برقرار رکھنے کے لیے مطلوبہ ریگولیٹری ماحول فراہم کر پاتا ہے یا نہیں۔
