کراچی میں میر رضا علی کے اغوا کا معاملہ سنگین موڑ اختیار کر گیا ہے۔ پولیس نے واقعے کا مقدمہ قتل کی دفعات میں تبدیل کر دیا ہے، یہ فیصلہ شہر کے مضافاتی علاقے سے ملنے والی ایک لاش کی شناخت کے بعد کیا گیا، جس کے بارے میں تفتیشی حکام کا ماننا ہے کہ یہ لاش لاپتہ طالب علم میر رضا علی کی ہے۔
اس پیش رفت نے کیس کی نوعیت کو مکمل طور پر بدل دیا ہے۔ چند ہفتے قبل تک اسے محض گمشدگی کا کیس سمجھا جا رہا تھا، لیکن اب تفتیشی ٹیمیں اسے ہائی پروفائل قتل کی تحقیقات کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔ عدالتی اور پولیس ریکارڈ میں اب اغوا کے ساتھ ساتھ قتل کی دفعات کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔
لواحقین کے لیے یہ خبر ایک قیامت بن کر ٹوٹی ہے۔ میر رضا کی بازیابی کے لیے خاندان نے شہر بھر میں کئی احتجاج کیے اور حکام سے مسلسل مطالبہ کیا کہ ان کے پیارے کو بازیاب کرایا جائے۔ پولیس کی جانب سے ابتدائی طور پر اسے تاوان کا کیس قرار دیا گیا تھا، تاہم اغوا کاروں کی جانب سے کوئی رابطہ نہ ہونے پر خدشات بڑھ رہے تھے کہ معاملہ کسی سانحے پر ختم ہوگا۔
تفتیش کے دوران پولیس کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ورثاء کا الزام ہے کہ پولیس نے ابتدائی دنوں میں سستی دکھائی اور سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرنے یا اغوا کاروں کی گاڑی کا سراغ لگانے میں وقت ضائع کیا۔ پولیس اسٹیشن کے باہر موجود ایک رشتہ دار نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "ہم نے ہر ممکن معلومات فراہم کیں، لیکن ہمیں صرف انتظار کرنے کا کہا جاتا رہا۔ اب ہمارے پاس جواب تو ہے، مگر وہ نہیں جس کے لیے ہم لڑ رہے تھے۔”
پولیس حکام اب ڈیجیٹل نگرانی اور موبائل فون ڈیٹا کے ذریعے مشتبہ افراد تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگرچہ ابھی تک کوئی باقاعدہ گرفتاری عمل میں نہیں آئی، لیکن تفتیشی ٹیموں نے ضلع غربی کے ایک مخصوص علاقے کو فوکس کیا ہوا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ وہ جلد ہی اہم شواہد کے ساتھ ملزمان تک پہنچ جائیں گے۔
سندھ ہوم ڈیپارٹمنٹ پر ملزمان کی فوری گرفتاری کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔ شہر میں امن و امان کی صورتحال اور طالب علموں کے تحفظ پر اٹھنے والے سوالات کے پیشِ نظر پولیس اسے ہائی پروفائل کیس کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ تفتیشی حکام نے لواحقین کو آج مزید بریفنگ دینے کا وعدہ کیا ہے، تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں کہ آیا اس واقعے کے پیچھے کوئی منظم گروہ ملوث ہے یا نہیں۔
پولیس نے اس مقام کو سیل کر دیا ہے جہاں سے لاش ملی تھی اور فرانزک ماہرین وہاں سے مزید شواہد اکٹھے کر رہے ہیں۔ یہ واقعہ کراچی میں طالب علموں کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز کی ایک تلخ یاد دہانی ہے۔
