کراچی کے علاقے ڈیفنس میں سابق صوبائی وزیر رضا ہارون کی رہائش گاہ کے باہر کھڑی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔ بدھ کی رات پیش آنے والا یہ واقعہ شہر میں بڑھتے ہوئے اسٹریٹ کرائمز کی ایک اور کڑی ہے۔
رضا ہارون، جو ماضی میں ایم کیو ایم پاکستان اور پی ایس پی کے اہم رہنما رہ چکے ہیں، نے تصدیق کی کہ نامعلوم چوروں نے گاڑی کا شیشہ توڑ کر اندر رسائی حاصل کی۔ ملزمان گاڑی میں موجود قیمتی سامان اور کچھ اہم دستاویزات لے اڑے ہیں۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی نفری موقع پر پہنچ گئی۔ حکام نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے اور ارد گرد کے گھروں میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج حاصل کرنا شروع کر دی ہے۔ ڈیفنس جیسے ہائی سیکیورٹی زون میں واردات کا ہونا پولیس کی کارکردگی اور گشت کے نظام پر سوالیہ نشان ہے۔
یہ واقعہ کراچی میں بڑھتے ہوئے جرائم کی عکاسی کرتا ہے۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران کلفٹن اور ڈیفنس جیسے پوش علاقوں میں گاڑیوں کے شیشے توڑ کر چوری اور موبائل فون چھیننے کی وارداتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ شہری اب خود کو انتہائی محفوظ سمجھے جانے والے علاقوں میں بھی غیر محفوظ تصور کر رہے ہیں۔
رضا ہارون نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ تحقیقات کو تیز کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ روشن اور کیمروں کی نگرانی والے علاقے میں چوروں کی یہ جرات ظاہر کرتی ہے کہ مجرموں کے حوصلے بلند ہیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ وہ علاقے میں متحرک ایک گروہ کا پیچھا کر رہے ہیں جس پر اسی نوعیت کی دیگر وارداتوں میں ملوث ہونے کا شبہ ہے۔ پولیس نے جلد گرفتاری کا دعویٰ تو کیا ہے، تاہم مقامی رہائشیوں میں عدم تحفظ کا احساس بدستور موجود ہے۔
فی الحال مقدمے کے اندراج کے لیے رضا ہارون کی جانب سے چوری شدہ اشیاء کی فہرست تیار کی جا رہی ہے۔ علاقے کے نجی سیکیورٹی گارڈز کو بھی رات کے اوقات میں گشت بڑھانے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔
