لاہور ہائی کورٹ نے عارف خان ساقی قتل کیس کے مرکزی ملزم کنین شاہ کی بعد از گرفتاری ضمانت منظور کر لی ہے۔ ایک رکنی بینچ کا یہ فیصلہ اس ہائی پروفائل کیس میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا ہے، جس نے گزشتہ کئی ماہ سے عوامی حلقوں میں تشویش پیدا کر رکھی تھی۔
عدالت نے کنین شاہ کی رہائی کا حکم ایسے وقت میں دیا جب استغاثہ ٹھوس فرانزک شواہد پیش کرنے میں ناکام رہا۔ ملزم کے وکلاء نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ تفتیشی اداروں نے جائے وقوعہ پر ملزم کی موجودگی کا کوئی ناقابل تردید ثبوت فراہم نہیں کیا، جس کے بعد عدالت نے ضمانت کی درخواست منظور کر لی۔
مقتول عارف خان ساقی کے اہل خانہ کے لیے یہ فیصلہ ایک بڑا دھچکا ہے۔ ان کا اصرار ہے کہ کنین شاہ اس حملے کا ماسٹر مائنڈ ہے اور اس کے پیچھے پرانی دشمنی کارفرما تھی۔ عدالتی احاطے کے باہر مقتول کے بھائی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں انصاف کے نظام سے مایوسی ہوئی ہے، اور وہ اس فیصلے کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کریں گے۔
استغاثہ نے کیس کے دوران عینی شاہدین کے بیانات اور کال ریکارڈز کو بنیاد بنایا تھا، لیکن دفاعی وکلاء نے ان شہادتوں میں تضادات کو نمایاں کر دیا۔ جج نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ موجودہ تفتیش میں ایسے "حتمی ثبوت” کی کمی ہے جس کی بنیاد پر مقدمے کے فیصلے تک ملزم کو جیل میں رکھا جا سکے۔
یہ کیس مقامی سطح پر کشیدگی کا باعث رہا ہے، جہاں مختلف گروہ فوری انصاف کے لیے احتجاج کرتے رہے ہیں۔ دوسری جانب پولیس تفتیش پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ تفتیش میں سستی اور کوتاہی نے کیس کو کمزور کیا، تاہم پولیس حکام کا دعویٰ ہے کہ وہ اب بھی ٹھوس شواہد اکٹھے کر رہے ہیں۔
مرکزی ملزم کی رہائی کے بعد اب سارا بوجھ استغاثہ پر ہے کہ وہ ٹرائل کے دوران عدالت کو قائل کرنے کے لیے کیا نیا ثبوت پیش کرتے ہیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق، اب یہ مقدمہ ایک طویل عدالتی جنگ میں تبدیل ہو چکا ہے جس کا فیصلہ آنے والے دنوں میں مزید پیچیدہ ہوگا۔
