سیول — جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول کے مضافاتی علاقے میں ایک رہائشی عمارت سے متعدد لاشوں کی دریافت نے پورے ملک میں ہلچل مچا دی ہے۔ پولیس کو یہ لاشیں منگل کی رات ایک فلاحی دورے کے دوران ملیں، جس کی وجہ کئی ماہ سے جمع نہ ہونے والے یوٹیلیٹی بل اور دروازے پر جمع ہونے والا ڈاک کا ڈھیر تھا۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق، مرنے والے افراد کافی عرصہ قبل دم توڑ چکے تھے، کیونکہ لاشیں بری طرح گل سڑ چکی تھیں۔ اگرچہ حکام نے ابھی تک مکمل تعداد ظاہر نہیں کی، لیکن اس واقعے نے جنوبی کوریا میں "تنہائی میں موت” کے بڑھتے ہوئے بحران کو ایک قومی اسکینڈل کی شکل دے دی ہے۔
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب جدید ٹیکنالوجی سے لیس ملک میں حکومتی دعووں کے باوجود سماجی تحفظ کا نظام بری طرح ناکام دکھائی دیا۔ سیول میں سماجی امور کے تجزیہ کار کم جی-وون کا کہنا ہے کہ "ہم ہر لین دین کو ڈیجیٹل طور پر ٹریک کر سکتے ہیں، لیکن اپنے پڑوسیوں کو بند دروازوں کے پیچھے مرنے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ محض انتظامی کوتاہی نہیں، بلکہ ایک اجتماعی ناکامی ہے۔”
حکومت پر شدید تنقید کی جا رہی ہے کہ بجلی اور کرائے کے بلوں کی عدم ادائیگی کے باوجود متعلقہ محکموں نے کسی قسم کے الارم یا انسانی مداخلت کی زحمت کیوں نہیں کی۔ اپوزیشن جماعتوں نے وزارتِ صحت و بہبود کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے فوری آڈٹ کا مطالبہ کر دیا ہے۔
وزارت نے حسبِ روایت ایک "جامع جائزے” کا وعدہ کیا ہے، لیکن عوام میں اس حوالے سے شدید بے چینی ہے۔ سن 2014 اور 2022 کے اسی نوعیت کے واقعات کے بعد بھی حکومتی وعدے صرف کاغذی کارروائی تک محدود رہے، جس کا نتیجہ آج ایک بار پھر لاشوں کی شکل میں سامنے آیا ہے۔
اس واقعے نے ملک کے ہر شہری کو ایک تلخ حقیقت کے سامنے لا کھڑا کیا ہے: کیا جنوبی کوریا کی ڈیجیٹل ترقی صرف اعداد و شمار تک محدود ہے، یا وہ ان افراد تک پہنچنے میں بھی کامیاب ہوگی جو آج بھی اپنے گھروں میں تنہا زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں؟
