آزاد جموں و کشمیر کے سرحدی علاقے میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے پاکستان رینجرز کا ایک اہلکار شہید اور دوسرا شدید زخمی ہو گیا۔
حملہ آج صبح اس وقت ہوا جب رینجرز کی ٹیم معمول کی گشت پر تھی۔ عینی شاہدین کے مطابق، گھات لگائے بیٹھے حملہ آوروں نے رینجرز کی گاڑی کو نشانہ بنایا اور فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
فائرنگ کے نتیجے میں ایک اہلکار موقع پر ہی دم توڑ گیا، جبکہ زخمی ہونے والے دوسرے اہلکار کو ابتدائی طبی امداد کے بعد راولپنڈی کے ملٹری ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ ڈاکٹرز کے مطابق زخمی اہلکار کی حالت تشویشناک ہے۔
واقعے کے فوری بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے قریبی پہاڑی سلسلوں اور جنگلات میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے تاکہ حملہ آوروں کا سراغ لگایا جا سکے۔ انٹیلی جنس ادارے واقعے کے محرکات کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ آیا یہ کسی منظم دہشت گردی کا حصہ ہے یا دشمن عناصر کی جانب سے اشتعال انگیزی۔
لائن آف کنٹرول کے قریب حالیہ کچھ عرصے میں سیکیورٹی صورتحال کشیدہ رہی ہے۔ اگرچہ 2021 کے جنگ بندی معاہدے کے بعد بھاری ہتھیاروں کا تبادلہ رک گیا ہے، لیکن سرحدی علاقوں میں چھوٹی جھڑپیں اور تخریب کاری کے واقعات سیکیورٹی اداروں کے لیے مستقل چیلنج بنے ہوئے ہیں۔
ابھی تک کسی کالعدم تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ مقامی انتظامیہ نے علاقے میں ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے اور سیکیورٹی حصار کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔
