اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے نرسری وارڈ میں منگل کی شب لگنے والی آگ کے بعد سامنے آنے والی سی سی ٹی وی فوٹیج نے ہسپتال کی انتظامیہ کی غفلت کو بے نقاب کر دیا ہے۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وارڈ کے اندر دھواں بھرنے کے بعد عملے اور والدین میں کس قدر افراتفری پھیلی۔
آگ شارٹ سرکٹ کے باعث بجلی کے پینل میں لگی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے وارڈ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ فوٹیج میں عملے کو بچوں کو انکیوبیٹرز سمیت ہاتھوں میں اٹھائے دھویں سے بھرے راہداریوں میں بھاگتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ وارڈ میں موجود تمام 15 نوزائیدہ بچوں کو بحفاظت نکال لیا گیا، تاہم ویڈیو میں نظر آنے والے مناظر کسی بڑے سانحے کی گواہی دے رہے ہیں۔
ایک متاثرہ والد نے واقعے کے وقت کی صورتحال بیان کرتے ہوئے کہا، "وہاں مکمل افراتفری تھی۔ میں نے نرسوں کو بچوں کو گود میں اٹھائے بھاگتے دیکھا۔ کسی نے ہمیں کچھ نہیں بتایا کہ کیا ہو رہا ہے، بس ہر طرف چیخ و پکار تھی۔”
اس واقعے کے بعد پمز انتظامیہ پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ عمارت پرانی ہو چکی ہے اور اس کی وائرنگ انتہائی خستہ حال ہے، جس کی وجہ سے یہ واقعہ پیش آیا۔ ہسپتال انتظامیہ نے انکوائری کا حکم تو دے دیا ہے، مگر مریضوں کے لواحقین کو اس تحقیقاتی عمل پر کوئی خاص بھروسہ نہیں۔
ہسپتال کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ "ہم نے تمام الیکٹریکل سسٹم کا مکمل آڈٹ کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔” تاہم، ترجمان اس سوال پر خاموش رہے کہ ماضی میں کی گئی مینٹیننس رپورٹس میں اسی وارڈ کی وائرنگ کو خطرناک کیوں قرار دیا گیا تھا اور اس پر عمل کیوں نہیں ہوا۔
فی الحال نرسری وارڈ کو سیل کر کے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ ہسپتال نے بچوں کو عارضی طور پر دوسرے وارڈز میں منتقل کیا ہے، لیکن والدین تاحال خوف اور عدم تحفظ کا شکار ہیں۔
یہ واقعہ صحت کی وزارت کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان ہے: کیا ایک اور بڑے حادثے کا انتظار کیا جائے گا، یا اب پمز کے فرسودہ انفراسٹرکچر کی مرمت کے لیے کوئی ٹھوس قدم اٹھایا جائے گا؟
