واشنگٹن: امریکی صدر Donald Trump نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے حالیہ ٹیلیفونک گفتگو کے دوران اسرائیلی وزیراعظم Benjamin Netanyahu کو ’’پاگل‘‘ قرار دیا تھا، جبکہ ساتھ ہی انہوں نے ایران کے سپریم لیڈر سے مستقبل میں ممکنہ ملاقات کی امید بھی ظاہر کی ہے۔
ایک انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہ لبنان سے متعلق جاری کشیدگی اور خطے میں بڑھتے ہوئے تنازع پر تشویش کے باعث نیتن یاہو کے بعض اقدامات سے ناراض تھے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ سخت الفاظ استعمال کیے گئے، تاہم اس کے باوجود دونوں رہنماؤں کے درمیان تعلقات مضبوط اور عملی نوعیت کے ہیں۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جنگی حالات میں اتحادی ممالک کے درمیان اختلافات پیدا ہونا غیر معمولی بات نہیں۔ انہوں نے خود کو اور نیتن یاہو کو ایسے رہنما قرار دیا جو مشکل اور پیچیدہ حالات میں فیصلے کر رہے ہیں۔ دوسری جانب نیتن یاہو نے بھی دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط قرار دیتے ہوئے کسی بڑے اختلاف کی تردید کی ہے۔
امریکی صدر نے ایران کے سپریم لیڈر Mojtaba Khamenei کے ساتھ ممکنہ ملاقات کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھتے رہے تو مستقبل میں براہِ راست ملاقات بھی ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق ایرانی قیادت جاری سفارتی رابطوں میں فعال کردار ادا کر رہی ہے۔
ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے محتاط امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ براہِ راست رابطے خطے میں استحکام کے فروغ اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق خدشات کے حل میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ تاہم ابھی تک کسی باضابطہ ملاقات کا اعلان نہیں کیا گیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر امریکی صدر اور ایرانی سپریم لیڈر کے درمیان ملاقات ہوتی ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک بڑی سفارتی پیش رفت تصور کی جائے گی۔ دونوں ممالک کے درمیان دہائیوں پر محیط کشیدگی کے تناظر میں ایسی ملاقات کے خطے پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ادھر خطے میں جاری فوجی سرگرمیوں اور مختلف سیاسی اختلافات کے باعث امن مذاکرات کو اب بھی متعدد چیلنجز درپیش ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ واشنگٹن، تل ابیب اور تہران کے درمیان تعلقات بدستور نہایت حساس مرحلے میں ہیں۔
موجودہ صورتحال میں ٹرمپ کے بیانات نے ایک بار پھر مشرقِ وسطیٰ میں جاری سفارتی کوششوں، علاقائی سلامتی اور مستقبل کے ممکنہ سیاسی منظرنامے پر عالمی توجہ مرکوز کر دی ہے۔
