بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی نے مغربی بنگال میں اپنی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی کامیابی کو “ریکارڈ” فتح قرار دیا ہے، حالانکہ یہ ریاست طویل عرصے سے اپوزیشن کے اہم مضبوط گڑھوں میں شمار ہوتی رہی ہے۔ تازہ انتخابی رپورٹنگ کے مطابق 294 نشستوں والی ریاستی اسمبلی میں بی جے پی اکثریت کی حد عبور کرتی دکھائی دے رہی ہے، جس سے پارٹی پہلی مرتبہ وہاں حکومت بنانے کی پوزیشن میں آ گئی ہے۔
یہ نتیجہ صرف ایک ریاستی کامیابی نہیں بلکہ قومی سیاست میں بھی بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ مغربی بنگال کئی برس سے ممتا بنرجی کی جماعت ترنمول کانگریس کے زیرِ اقتدار رہا ہے، اور ممتا بنرجی کو مودی کے نمایاں علاقائی سیاسی حریفوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اگر بی جے پی واقعی یہاں حکومت بناتی ہے تو یہ نہ صرف مشرقی بھارت میں اس کی پوزیشن مضبوط کرے گا بلکہ اپوزیشن کے ایک بڑے مرکز کو بھی کمزور کر دے گا۔
مودی نے اس کامیابی کو ایک تاریخی عوامی فیصلہ قرار دیتے ہوئے اسے اس بات کا ثبوت بتایا کہ بی جے پی کی مقبولیت اب اُن علاقوں میں بھی بڑھ رہی ہے جہاں پارٹی پہلے اپنی مضبوط گرفت قائم نہیں کر سکی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی بنگال کا نتیجہ علامتی اور سیاسی دونوں حوالوں سے اہم سمجھا جا رہا ہے۔
اگر یہ نتیجہ برقرار رہتا ہے تو اس سے مودی کی قومی سیاسی پوزیشن مزید مضبوط ہو سکتی ہے اور بی جے پی کو آئندہ بڑے انتخابی معرکوں سے پہلے ایک نئی حکمتِ عملی بنیاد مل سکتی ہے۔ دوسری طرف اپوزیشن، خاص طور پر ترنمول کانگریس، کے لیے یہ ایک بڑا دھچکا ہوگا، کیونکہ مغربی بنگال کو طویل عرصے سے بی جے پی کے خلاف ایک دفاعی قلعے کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے۔
