ڈونلڈ ٹرمپ کا امریکی کوئلے کی صنعت کو دوبارہ زندہ کرنے کا انتخابی وعدہ اب زمینی حقائق سے ٹکرا رہا ہے۔ ملک بھر میں بجلی فراہم کرنے والی کمپنیاں یہ دیکھ رہی ہیں کہ پرانے اور غیر مؤثر کوئلے کے پلانٹس کو زبردستی چلائے رکھنے سے ان کے مالیاتی بجٹ بری طرح متاثر ہو رہے ہیں، جس کا بوجھ اب کروڑوں ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔
یہ اخراجات صرف کارپوریٹ کھاتوں تک محدود نہیں رہے بلکہ براہِ راست صارفین کے بجلی کے بلوں میں منتقل ہو رہے ہیں۔ وائیومنگ اور ویسٹ ورجینیا جیسی ریاستوں میں، کوئلے کے پلانٹس کو بند ہونے سے روکنے کے حکومتی احکامات نے یوٹیلیٹی کمپنیوں کو مجبور کیا ہے کہ وہ ایسی تنصیبات پر سرمایہ کاری کریں جو قدرتی گیس، ہوا اور شمسی توانائی کے سستے متبادل کے سامنے مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رکھتیں۔
کلائمیٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ کی سینئر انرجی تجزیہ کار سارہ ملر کہتی ہیں، "یہ ایک ناکام ٹیکنالوجی کے لیے زبردستی کی سبسڈی ہے۔ یوٹیلیٹی کمپنیوں کو کہا جا رہا ہے کہ وہ کوئلے سے بجلی کی فراہمی جاری رکھیں، حالانکہ مارکیٹ برسوں پہلے کوئلے کو ترک کر چکی ہے۔”
مونٹانا میں، نارتھ ویسٹرن انرجی کو ‘کول اسٹرپ’ پاور پلانٹ کے اخراجات پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ کمپنی نے پلانٹس کو فعال رکھنے کے لیے حکومتی دباؤ کا حوالہ تو دیا، لیکن دیکھ بھال اور ضوابط کی تعمیل کے لیے درکار بھاری اخراجات نے کمپنی کو مجبور کیا ہے کہ وہ بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے لیے درخواست دے۔ یہ ایک ایسا پیٹرن ہے جو بار بار دہرایا جا رہا ہے: پلانٹ جتنا پرانا ہوتا ہے، اسے ماحولیاتی معیارات کے مطابق فعال رکھنے کی قیمت اتنی ہی بڑھ جاتی ہے۔
سیاسی حکمت عملی ‘توانائی کی خود مختاری’ کے تصور پر مبنی ہے، جس میں کوئلے کو بجلی کی بنیادی ضرورت (baseload) کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ تاہم، گرڈ آپریٹرز کی کہانی مختلف ہے۔ مڈ کانٹیننٹ انڈیپنڈنٹ سسٹم آپریٹر (MISO) سمیت دیگر علاقائی گرڈ مینیجرز بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ گرڈ کا انحصار ایندھن کے ذرائع کو متنوع بنانے پر ہے، نہ کہ سب سے مہنگے ذرائع پر حد سے زیادہ انحصار کرنے پر۔
درمیان میں پھنسی ہوئی یوٹیلیٹی کمپنیوں کے لیے یہ صورتحال دو طرفہ نقصان کا باعث ہے۔ ایک طرف وائٹ ہاؤس کا دباؤ ہے کہ کوئلے کے پلانٹس کو جاری رکھا جائے، اور دوسری طرف شیئر ہولڈرز اور پبلک یوٹیلیٹی کمیشنز ہیں جو مالیاتی ذمہ داری کا مطالبہ کرتے ہیں۔ جب یہ دونوں قوتیں ٹکراتی ہیں، تو آخرکار قیمت عام صارف ہی ادا کرتا ہے۔
جیسے جیسے مزید پلانٹس اپنی عملی زندگی کے اختتام کو پہنچ رہے ہیں، یہ مالی بوجھ بڑھنے کا امکان ہے۔ ان بڑھتے ہوئے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے کوئی واضح منصوبہ موجود نہیں ہے، جس سے سیاسی بیانات اور توانائی کی مارکیٹ کے زمینی حقائق کے درمیان خلیج مزید گہری ہو رہی ہے۔
