بھارت اور پاکستان کے بڑے حصوں میں اس وقت شدید اور مسلسل ہیٹ ویو جاری ہے، جس کے باعث درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے اور مختلف علاقوں میں روزانہ نئے موسمی ریکارڈز بن رہے ہیں۔ یہ شدید گرمی بنیادی طور پر شمال مغربی بھارت میں زیادہ محسوس کی جا رہی ہے، تاہم ماہرینِ موسمیات کے مطابق اس کے اثرات مشرقی پاکستان تک بھی پہنچ رہے ہیں۔
بھارت کی ریاست راجستھان کے شہر بیکانیر اور بامر میں درجہ حرارت 48.3 ڈگری سینٹی گریڈ تک ریکارڈ کیا گیا۔ قریبی علاقوں میں بھی شدید گرمی دیکھی گئی جہاں دن کے وقت درجہ حرارت تقریباً 47 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، جبکہ رات کے وقت بھی غیر معمولی طور پر درجہ حرارت 34 ڈگری سینٹی گریڈ تک برقرار رہا، جس سے عوام کو کسی قسم کا ریلیف نہیں ملا۔
موسمی ماہرین کے مطابق یہ گرمی کی لہر سرحدوں تک محدود نہیں ہے، کیونکہ یہی گرم اور خشک ہوائی ماس پاکستان کے مشرقی علاقوں پر بھی اثر انداز ہو رہا ہے۔ سندھ اور جنوبی پنجاب کے سرحدی علاقوں میں درجہ حرارت میں اضافہ اور گرم خشک ہواؤں نے صورتحال کو مزید سخت بنا دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال ایک طاقتور اور مستقل ہائی پریشر سسٹم کے باعث پیدا ہوئی ہے، جو بادلوں کی تشکیل کو روک رہا ہے اور بارش کے امکانات کو انتہائی کم کر رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں پورے خطے میں گرمی کی شدت مسلسل بڑھ رہی ہے۔
حکام نے خبردار کیا ہے کہ اس شدید گرمی کے مسلسل اثرات سے ہیٹ اسٹروک، پانی کی کمی (ڈی ہائیڈریشن) اور پانی کی قلت جیسے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ شہری اور دیہی علاقوں میں خاص طور پر وہ افراد زیادہ خطرے میں ہیں جن کے پاس ٹھنڈک کے مناسب وسائل موجود نہیں۔
صحت کے حکام نے دونوں ممالک کے شہریوں کو ہدایت دی ہے کہ دوپہر کے وقت براہِ راست دھوپ سے بچیں، زیادہ سے زیادہ پانی پئیں، ہلکے اور محفوظ کپڑے پہنیں اور غیر ضروری جسمانی سرگرمیوں سے گریز کریں۔ بچوں، بزرگوں اور مزدور طبقے کا خاص خیال رکھنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے، کیونکہ ہسپتالوں میں ہیٹ ایکزاسشن اور ہیٹ اسٹروک کے کیسز میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
موسمی پیشگوئیوں کے مطابق یہ ہیٹ ویو آئندہ کئی دنوں تک جاری رہ سکتی ہے اور فوری طور پر کسی بڑی ریلیف کی توقع نہیں ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ درجہ حرارت خطرناک حد تک برقرار رہ سکتا ہے جب تک فضا میں کوئی بڑا موسمی تبدیلی کا نظام نہ آ جائے۔ ساتھ ہی یہ بھی خبردار کیا جا رہا ہے کہ جنوبی ایشیا میں اس نوعیت کی شدید گرمی کی لہریں تیزی سے بڑھ رہی ہیں، جو موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات کی نشاندہی کرتی ہیں۔
