ایران سے متعلق جاری کشیدگی میں اس وقت نیا تنازع سامنے آیا جب ایک سینئر امریکی فوجی کمانڈر نے ان رپورٹس کو مسترد کر دیا جن میں کہا گیا تھا کہ امریکی حملوں یا ان سے منسلک کارروائیوں کے نتیجے میں ایران میں بڑی تعداد میں عام شہری ہلاک ہوئے۔
امریکی سینٹ میں ہونے والی ایک سماعت کے دوران یو ایس سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا کہ امریکی فوج کے پاس ایسی کوئی “مصدقہ یا تصدیق شدہ معلومات” موجود نہیں جو یہ ثابت کرے کہ امریکی کارروائیوں میں شہری علاقوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا ہو، جیسے اسکول یا اسپتال۔
ان کے اس بیان کے بعد عالمی سطح پر ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے، کیونکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں اور بعض میڈیا رپورٹس اس کے برعکس دعوے کر رہی ہیں۔
گزشتہ چند ہفتوں میں مختلف رپورٹس میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ ایران میں فوجی کارروائیوں کے دوران کئی شہری مقامات کو نقصان پہنچا ہے۔ ان میں اسکول، اسپتال اور رہائشی علاقے شامل بتائے گئے۔
کچھ آزاد مبصرین اور میڈیا رپورٹس نے سیٹلائٹ تصاویر اور عینی شاہدین کے بیانات کی بنیاد پر یہ دعویٰ کیا کہ متعدد شہری عمارتیں متاثر ہوئیں۔ تاہم ان دعوؤں کی مکمل اور آزادانہ تصدیق ابھی تک نہیں ہو سکی۔
دوسری جانب ایرانی حکام اور امدادی اداروں نے الزام لگایا ہے کہ حملوں کے نتیجے میں شہری انفراسٹرکچر کو بڑا نقصان پہنچا اور کئی افراد متاثر ہوئے۔
سینٹ کی سماعت کے دوران بعض امریکی سینیٹرز نے بھی سوال اٹھائے کہ آیا پینٹاگون شہری نقصانات کی رپورٹس کو مکمل طور پر اور شفاف طریقے سے جانچ رہا ہے یا نہیں۔
ایڈمرل کوپر نے دفاع کرتے ہوئے کہا کہ بہت سی رپورٹس ابھی ابتدائی سطح پر ہیں اور ان کی مکمل تصدیق نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق امریکی اور اتحادی افواج کی کارروائیوں کا مقصد صرف فوجی اہداف کو نشانہ بنانا ہے۔
اسی دوران انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کی فوجی صلاحیتوں، خاص طور پر میزائل نظام اور بحری طاقت کو نمایاں نقصان پہنچا ہے۔
اس معاملے پر بین الاقوامی سطح پر بھی مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کر رہی ہیں تاکہ شہری نقصانات کی حقیقت واضح ہو سکے۔
کچھ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر شہری ہلاکتوں کی رپورٹس کو نظر انداز کیا گیا تو اس سے امریکہ کی عالمی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے اور خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔
دوسری طرف امریکہ کے حامی حلقے کہتے ہیں کہ ایران کی سرگرمیاں خطے کے لیے خطرہ ہیں، اس لیے فوجی کارروائیاں دفاعی نوعیت کی تھیں۔
یہ صورتحال صرف جنگی میدان تک محدود نہیں بلکہ ایک “انفارمیشن وار” کی شکل بھی اختیار کر چکی ہے، جہاں مختلف فریق اپنے اپنے بیانیے کے ذریعے عالمی رائے عامہ کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
حتمی حقیقت تک پہنچنا اس وقت مشکل ہے کیونکہ جنگی حالات میں معلومات اکثر متضاد اور غیر مصدقہ ہوتی ہیں۔
فی الحال یہ تنازعہ عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے اور امکان ہے کہ آنے والے دنوں میں اس پر مزید تحقیقات اور سیاسی بحث جاری رہے گی۔
