اسلام آباد: پاکستان اور تاجکستان نے موسمیاتی تبدیلی، گلیشیئرز کے پگھلاؤ، پانی کے انتظام اور جنگلی حیات کے تحفظ جیسے مشترکہ ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے علاقائی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
یہ اتفاق رائے وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ ڈاکٹر مصدق مسعود ملک اور تاجک سفیر یوسف شریف زادہ کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات کے دوران سامنے آیا۔
ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان موسمیاتی تبدیلی، آبی وسائل کے انتظام، جنگلی حیات کے تحفظ اور علاقائی روابط کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
گفتگو کے دوران دوشنبے میں منعقد ہونے والی “واٹر فار سسٹین ایبل ڈیویلپمنٹ” کانفرنس پر بھی بات ہوئی، جہاں ڈاکٹر مصدق مسعود ملک وزیرِاعظم پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔
تاجک سفیر یوسف شریف زادہ نے کہا کہ پاکستان اور تاجکستان جغرافیائی اور ماحولیاتی لحاظ سے کئی مماثلتیں رکھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک میں تقریباً تیرہ ہزار گلیشیئرز موجود ہیں جبکہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث ایک ہزار کے قریب گلیشیئرز ختم ہو چکے ہیں۔
انہوں نے گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کے خطرات سے نمٹنے کے لیے علاقائی سطح پر مشترکہ اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔
سفیر نے مزید کہا کہ مارخور، برفانی چیتے، آئی بیکس اور مختلف نقل مکانی کرنے والے پرندے دونوں ممالک میں پائے جاتے ہیں، جن کے تحفظ کے لیے مشترکہ معاہدوں اور تعاون کی ضرورت ہے۔
وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق مسعود ملک نے کہا کہ توانائی، پانی اور موسمیاتی تبدیلی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے مسائل ہیں، اس لیے خطے کے ممالک کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
انہوں نے تاجکستان کے ساتھ موسمیاتی تحفظ، پانی کے بہتر انتظام، جنگلی حیات کے تحفظ اور پائیدار ترقی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔
ڈاکٹر مصدق مسعود ملک نے پاکستان اور تاجکستان کے درمیان ایک علاقائی راہداری قائم کرنے کی تجویز بھی دی، جس سے نہ صرف ماحولیاتی تعاون بلکہ تجارت اور علاقائی روابط کو بھی فروغ ملے گا۔
ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے درمیان موسمیاتی نظام، موسم کے پیٹرنز اور جدید آبی و ماحولیاتی حل پر مستقبل میں تعاون کے امکانات پر بھی گفتگو کی گئی۔
دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور تاجکستان کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
