سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ انٹارکٹیکا کے ہیکٹوریا گلیشیئر کا تیزی سے ٹوٹنا برفانی چادر کے عدم استحکام اور دنیا بھر میں سمندری سطح کے بلند ہونے کے ایک نئے مرحلے کی نشاندہی کر سکتا ہے۔
انٹارکٹیکا کے مشرقی حصے میں موجود ایک بڑا گلیشیئر صرف دو ماہ کے اندر تقریباً آدھا ختم ہو گیا ہے، جو ماہرین کے مطابق برفانی پگھلاؤ کی تاریخ میں تیز ترین واقعات میں سے ایک ہے۔ اس اچانک تبدیلی نے عالمی ماحولیاتی سائنس دانوں کو حیرت اور تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ گلیشیئر کے ٹوٹنے اور پگھلنے کی رفتار غیر معمولی طور پر تیز رہی، جس کی بڑی وجہ بڑھتا ہوا سمندری درجہ حرارت اور عالمی حدت ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ گلیشیئر کے وسیع حصے دو ماہ کے اندر اندر سمندر میں بہہ گئے، جس سے سطحِ سمندر میں اضافے کا خطرہ مزید بڑھ گیا ہے۔
تحقیقات کے مطابق، اس خطے میں برفانی استحکام پہلے سے کمزور ہو رہا ہے، اور اگر یہی رجحان جاری رہا تو آئندہ دہائیوں میں دنیا بھر کے ساحلی علاقوں کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر عالمی درجہ حرارت میں کمی کے لیے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو انٹارکٹیکا کے مزید حصے ناقابلِ واپسی نقصان کا شکار ہو سکتے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ عالمی برفانی نظام میں آنے والی بڑی تبدیلیوں کی علامت ہے، جو انسانی سرگرمیوں اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج سے براہِ راست منسلک ہیں۔
