مغربی ہواؤں کا سسٹم اور کم دباؤ کا نظام ملک بھر میں وسیع طوفانی سرگرمیوں کا باعث
پاکستان کے مختلف حصے 12 مئی سے 17 مئی 2026 تک ایک اہم قبل از مون سون موسمی نظام کے زیرِ اثر ہیں، جس کے باعث ملک بھر میں وقفے وقفے سے بارش، گرج چمک کے طوفان، تیز ہوائیں اور بعض مقامات پر ژالہ باری رپورٹ ہو رہی ہے۔ یہ صورتحال مغربی ہواؤں کے نظام (Western Disturbance) اور سطحی کم دباؤ کے علاقے سے منسلک ہے۔
موسمیاتی ماہرین کے مطابق بحرِ عرب اور خلیج بنگال دونوں سے مسلسل مرطوب ہوائیں پاکستان میں داخل ہو رہی ہیں، جس سے شمالی اور وسطی علاقوں میں بادلوں کی تشکیل اور طوفانی سرگرمیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ فضا میں نمی کی فراہمی، بالائی فضائی عدم استحکام اور پہاڑی علاقوں میں اوروگرافک لفٹنگ اس نظام کی شدت کی بنیادی وجوہات ہیں۔
پنجاب، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سب سے زیادہ متاثر
یہ موسمی نظام ایک وسیع جغرافیائی علاقے کو متاثر کر رہا ہے، جس میں شامل ہیں:
- پنجاب
- خیبر پختونخوا
- شمالی بلوچستان
- گلگت بلتستان
- آزاد جموں و کشمیر
ان علاقوں میں وقفے وقفے سے شدید بارش، گرج چمک کے طوفان، تیز ہوائیں اور بعض مقامات پر ژالہ باری دیکھی جا رہی ہے۔
شہری اور نشیبی علاقے شدید بارشوں کے باعث عارضی پانی جمع ہونے کے خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔
13 سے 15 مئی کے دوران شدت میں اضافہ متوقع
موسمی تجزیے کے مطابق یہ نظام 13 سے 15 مئی کے درمیان اپنی بلند ترین شدت پر ہوگا، جب ملک کے مختلف حصوں میں درمیانی سے شدید بارشیں متوقع ہیں۔
اس دوران ماہرین نے درج ذیل خطرات سے خبردار کیا ہے:
- شدید ہوا کے طوفان
- موسلادھار بارش
- بجلی گرنے کے واقعات
- مقامی سطح پر اچانک سیلاب
- ٹرانسپورٹ اور بجلی کے نظام میں ممکنہ خلل
حکام کو خاص طور پر دریاؤں، ندی نالوں اور نشیبی علاقوں میں چوکس رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
17 مئی تک نظام کے کمزور ہونے کا امکان
موسمی ماڈلز کے مطابق 15 مئی کے بعد یہ سسٹم آہستہ آہستہ کمزور ہونا شروع ہو جائے گا اور شمال مشرق کی طرف منتقل ہو کر 17 مئی 2026 تک پاکستان کے زیادہ تر حصوں سے نکل جائے گا۔
تاہم بالائی علاقوں میں باقی ماندہ نمی کے باعث کہیں کہیں ہلکی بارش کا امکان برقرار رہ سکتا ہے۔
حکام کی شہریوں کو احتیاطی ہدایات
محکمہ موسمیات نے شہریوں کو ہدایت دی ہے کہ:
- شدید بارش کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں
- تیز ہواؤں کے دوران کمزور عمارتوں سے دور رہیں
- نشیبی اور سیلابی علاقوں میں احتیاط کریں
- موسمی اپ ڈیٹس پر مسلسل نظر رکھیں
حکام صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ طوفانی سرگرمیوں کے دوران حالات تیزی سے تبدیل ہو سکتے ہیں۔
