پنجاب بھر میں منگل کے روز ہونے والی موسلا دھار بارشوں نے معمولاتِ زندگی درہم برہم کر دیے، جس کے نتیجے میں چھتیں گرنے اور ٹریفک کے حادثات میں دو افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ نو زخمی ہوئے۔
صوبے کے وسطی اور شمالی اضلاع میں پیش آنے والے یہ واقعات پرانی اور خستہ حال عمارتوں کی کمزوری کو ظاہر کرتے ہیں۔ تیز بارشوں کے باعث سڑکیں ندی نالوں کا منظر پیش کر رہی ہیں، جبکہ کچی آبادیوں میں رہائشی ڈھانچے پانی کا دباؤ برداشت نہ کر سکے۔
سب سے افسوسناک واقعہ گوجرانوالہ کے نواحی علاقے میں پیش آیا، جہاں ایک مکان کی چھت گرنے سے 12 سالہ لڑکا موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ امدادی ٹیموں نے گھنٹوں کی کوشش کے بعد ملبے تلے دبے خاندان کے تین دیگر افراد کو بحفاظت نکال لیا، جنہیں فوری طور پر مقامی ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
ریسکیو سروس کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ "ہمیں صبح چار بجے کال موصول ہوئی، لیکن تنگ گلیوں کے باعث بھاری مشینری جائے وقوعہ تک پہنچانا ایک بڑا چیلنج تھا۔” انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ امدادی کارروائی مکمل ہو چکی ہے، لیکن آس پاس کے دیگر مکانات کی حالت بھی انتہائی مخدوش ہے جو کسی بڑے خطرے کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے۔
صوبائی دارالحکومت لاہور میں نکاسی آب کا نظام شدید دباؤ کا شکار رہا، جس سے شہر کے نشیبی علاقے زیر آب آ گئے۔ لاہور میں اگرچہ کوئی ہلاکت تو نہیں ہوئی، تاہم پھسلن کے باعث موٹر سائیکلیں پھسلنے اور ٹریفک حادثات میں نو افراد زخمی ہوئے۔ میو اور سروسز ہسپتال کی ایمرجنسی وارڈز میں دن بھر فریکچر اور معمولی زخموں کے شکار مریضوں کی آمد کا سلسلہ جاری رہا۔
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے اگلے 48 گھنٹوں کے لیے ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے، جس میں نشیبی علاقوں میں سیلابی صورتحال کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ انتباہ کے باوجود دیہی علاقوں میں بڑی تعداد میں لوگ ایسے گھروں میں مقیم ہیں جنہیں ماہرین "انتہائی غیر محفوظ” قرار دیتے ہیں۔
مون سون کا یہ سلسلہ ہفتے کے آخر تک جاری رہنے کا امکان ہے، جس کے بعد صوبائی انتظامیہ پر اب روایتی ہنگامی اقدامات سے آگے بڑھ کر ٹھوس حکمت عملی اپنانے کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔ فی الحال ریسکیو ٹیمیں الرٹ پر ہیں، لیکن گوجرانوالہ اور دیگر متاثرہ علاقوں کے مکینوں کے لیے یہ نقصان ناقابلِ تلافی ہے۔
