لاہور کے قدیم علاقے یکی گیٹ میں بدھ کی صبح ایک خستہ حال گھر کی چھت گرنے سے پانچ سالہ بچہ جان کی بازی ہار گیا، جبکہ چار افراد زخمی ہو گئے۔
حادثہ صبح سویرے پیش آیا جب گھر کی چھت مکینوں پر آن گری۔ مقامی افراد کی اطلاع پر ریسکیو 1122 کی ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور ملبے تلے دبے افراد کو نکال کر میو ہسپتال منتقل کیا۔ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق پانچ سالہ عبداللہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا، جبکہ زخمی ہونے والوں میں دو خواتین اور دو بچے شامل ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ زخمیوں کی حالت مستحکم ہے، تاہم انہیں طبی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔
مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ یہ مکان برسوں سے انتہائی مخدوش حالت میں تھا اور حالیہ بارشوں نے اس کی بنیادوں کو مزید کمزور کر دیا تھا۔ اندرونِ شہر لاہور میں ایسی سینکڑوں عمارتیں موجود ہیں جنہیں ضلعی انتظامیہ نے خطرناک قرار دے رکھا ہے، لیکن متبادل رہائش نہ ہونے کے باعث غریب خاندان انہی بوسیدہ عمارتوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔
ایک عینی شاہد نے بتایا کہ "ہم نے ایک زوردار دھماکہ سنا اور باہر نکلے تو دیکھا کہ پوری چھت زمین بوس ہو چکی تھی۔”
پولیس نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے لیا ہے کیونکہ مکان کی باقی ماندہ دیواریں بھی کسی بھی وقت گر سکتی ہیں۔ یہ سانحہ ایک بار پھر لاہور کے تاریخی علاقوں میں بلڈنگ سیفٹی کوڈز کے نفاذ پر سوالات کھڑے کر رہا ہے، جہاں مون سون کے دوران پرانی عمارتوں کا گرنا معمول بن چکا ہے۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے تاحال اس واقعے کی تحقیقات یا متاثرہ خاندان کے لیے کسی امدادی پیکیج کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ فی الحال تمام تر توجہ زخمیوں کی صحت یابی اور تنگ گلی سے ملبہ ہٹانے پر مرکوز ہے۔
