بائیڈن انتظامیہ نے اس ہفتے خاموشی سے ایرانی تیل پر عائد پابندیوں کے نفاذ میں نرمی برتی ہے، جس کے بعد تہران عالمی منڈیوں میں اپنی برآمدات بڑھانے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ وائٹ ہاؤس اسے ایک تکنیکی اقدام قرار دے رہا ہے، تاہم زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ یہ عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے کی ایک حکمت عملی ہے، جس کا مقصد 2015 کے جوہری معاہدے کو باضابطہ بحال کیے بغیر تیل کی سپلائی کو یقینی بنانا ہے۔
کئی ماہ تک ایران کی تیل کی برآمدات سابقہ انتظامیہ کی "زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی پالیسی کے باعث شدید متاثر رہیں۔ اب صورتحال بدل چکی ہے۔ خارک جزیرے سے تیل بردار جہازوں کی نقل و حرکت میں واضح اضافہ ہوا ہے۔ سمندری ٹریفک پر نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایشیائی بندرگاہوں کی جانب جانے والے جہازوں کی تعداد بڑھ رہی ہے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ واشنگٹن فی الحال اس تجارت کو نظر انداز کر رہا ہے۔
اس اقدام کا وقت محض اتفاق نہیں ہے۔ امریکہ میں پیٹرول کی قیمتیں سیاسی طور پر انتہائی حساس معاملہ ہیں، اور مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیشِ نظر وائٹ ہاؤس کو ایک "بفر” کی ضرورت ہے۔ "گرے مارکیٹ” تجارت کو کچھ حد تک کھلی چھوٹ دے کر امریکہ سپلائی میں آنے والے کسی بھی بڑے جھٹکے سے وقتی طور پر بچنا چاہتا ہے۔
تاہم، اس نرمی کا جوہری مذاکرات پر کوئی مثبت اثر نہیں پڑا۔ ویانا میں جاری مذاکرات مہینوں سے منجمد ہیں، اور دونوں فریقین اپنے پرانے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ ایران بدستور یورینیم کی افزودگی جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ امریکہ 2015 کی حدود میں واپسی کا مطالبہ کر رہا ہے — ایک ایسی شرط جسے تہران موجودہ معاشی حالات میں ناکافی سمجھتا ہے۔
یہ پالیسی ایک عجیب سفارتی تعطل پیدا کر رہی ہے۔ ایک طرف امریکہ عالمی منڈیوں کو پرسکون رکھنے کے لیے ایران کی معاشی لائف لائن کو سہارا دے رہا ہے، تو دوسری طرف وہ ان باضابطہ پابندیوں کو ہٹانے سے انکاری ہے جنہیں ایران جوہری شفافیت کے لیے بنیادی شرط قرار دیتا ہے۔ یہ کسی دیرپا حل کی حکمت عملی نہیں، بلکہ وقتی ضرورت کا نام ہے۔
خطرات واضح ہیں۔ پابندیوں کے نفاذ میں نرمی سے واشنگٹن اپنی اصل طاقت یعنی "دباؤ” کھو رہا ہے۔ اگر ایران ایک جانب جوہری پروگرام کو وسعت دیتا رہے اور دوسری جانب تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی کو محفوظ بناتا رہے، تو وائٹ ہاؤس کے پاس سفارتی حل کا موقع مزید محدود ہو جائے گا۔
فی الحال، تیل بردار جہاز سمندروں میں رواں دواں ہیں۔ جوہری معائنہ کار مایوس ہیں۔ دونوں فریقین بظاہر اسی "اسٹیٹس کو” کے ساتھ چلنے میں مگن ہیں، چاہے اس سے خطے کی طویل مدتی سکیورٹی ایک نازک اور غیر تحریری سمجھوتے کے رحم و کرم پر ہی کیوں نہ ہو۔
