راولپنڈی — فحش مواد بنانے اور سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے کے الزام میں گرفتار دو غیر ملکی باشندوں کو جوڈیشل ریمانڈ مکمل ہونے پر اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔ حکام نے منگل کی رات انہیں مقامی تھانے سے سخت سیکیورٹی میں جیل منتقل کیا۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم ونگ نے ان افراد کو گزشتہ ہفتے ایک خفیہ اطلاع پر گرفتار کیا تھا۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق، ملزمان شہر کے ایک کرائے کے مکان میں مقیم تھے جہاں سے وہ ڈیجیٹل آلات کے ذریعے متنازعہ مواد تیار کر رہے تھے۔ ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان کے قبضے سے برآمد ہونے والے لیپ ٹاپ اور موبائل فونز سے اہم شواہد ملے ہیں، جنہیں فارنزک کے لیے لیبارٹری بھجوا دیا گیا ہے۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب سوشل میڈیا پر ان کی سرگرمیوں کے خلاف شکایات موصول ہوئیں۔ ملزمان نے جس مقصد کے لیے ویزا حاصل کیا تھا، تفتیشی ٹیم کے مطابق ان کی سرگرمیاں اس کے برعکس پائی گئیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذرائع کا کہنا ہے کہ کیس کی حساسیت کے پیش نظر ملزمان کے سفارت خانوں کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے تاکہ قانونی تقاضے پورے کیے جا سکیں۔
قانونی ماہرین کے مطابق، پاکستان میں الیکٹرانک کرائمز کی روک تھام کے قانون (پیکا) کے تحت اس طرح کے جرائم پر سخت سزائیں مقرر ہیں۔ اگر جرم ثابت ہوتا ہے تو ملزمان کو طویل قید کے ساتھ ساتھ جرمانے کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے، جس کے بعد ان کی ملک بدری کا عمل شروع ہوگا۔
فی الحال ملزمان اڈیالہ جیل میں اپنی اگلی پیشی کے منتظر ہیں۔ عدالت نے آئندہ ہفتے دوبارہ سماعت مقرر کی ہے، جہاں ان کے وکلاء کی جانب سے ضمانت کی درخواست دائر کیے جانے کا امکان ہے۔ اس مقدمے نے ایک بار پھر آن لائن مواد کی نگرانی اور غیر ملکیوں کی جانب سے مقامی قوانین کی پاسداری کے سوالات کو اٹھا دیا ہے۔
