محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ اس ہفتے ایک طاقتور مغربی ہواؤں کا سلسلہ ملک کے بالائی اور وسطی حصوں میں داخل ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں وقفے وقفے سے گرج چمک کے ساتھ بارشوں کا طویل سلسلہ شروع ہوگا۔
یہ سسٹم منگل سے شمالی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے گا اور ہفتے کے آخر تک جاری رہے گا۔ خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور کشمیر میں موسلا دھار بارش کا امکان ہے، جس سے ندی نالوں میں طغیانی کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ پنجاب کے وسطی اضلاع بھی اس بارش کی زد میں رہیں گے، جس سے خشک سالی کا موجودہ دور تو ختم ہوگا، مگر گندم کی تیار فصل کو نقصان پہنچنے کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے۔
محکمہ موسمیات کے ایک سینئر عہدیدار نے پیر کے روز میڈیا کو بتایا کہ "کسانوں کو احتیاط برتنی ہوگی۔ اس بارش کا وقت فصل کی کٹائی کے لیے سازگار نہیں ہے، خاص طور پر ان اضلاع میں جہاں فصل پک کر تیار ہو چکی ہے۔”
اسلام آباد اور راولپنڈی میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش کی توقع ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے واسا کو ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے تاکہ شہر کے نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے کی صورت میں نکاسی آب کو فوری یقینی بنایا جا سکے۔
اس سسٹم کے داخل ہوتے ہی درجہ حرارت میں نمایاں کمی آئے گی، جس سے حالیہ گرمی کی لہر دم توڑ جائے گی۔ ماہرین نے شمالی علاقوں کے سفر کرنے والوں کو خبردار کیا ہے کہ شدید بارش کے دوران پہاڑی راستوں پر لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، اس لیے غیر ضروری سفر سے گریز کیا جائے۔
یہ بارشوں کا سلسلہ اتوار تک جاری رہنے کا امکان ہے، جس کے بعد موسم دوبارہ صاف ہونے کی توقع ہے۔ فی الحال ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اپنے امدادی دستوں کو تیار رکھیں۔
