سندھ پولیس کی جانب سے جاری کردہ حالیہ اعداد و شمار میں صوبے بھر میں جرائم اور دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ٹارگٹڈ آپریشنز اور خفیہ معلومات پر مبنی کارروائیوں کے نتیجے میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے، تاہم آزاد مبصرین ان اعداد و شمار کی پائیداری پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔
صوبائی پولیس کمانڈ کی پیش کردہ رپورٹ کے مطابق کراچی میں اسٹریٹ کرائمز کی شرح میں دو ہندسوں میں کمی آئی ہے، جبکہ اندرونِ سندھ دہشت گردی کے بڑے واقعات تقریباً ختم ہو چکے ہیں۔ عام شہری کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ شہر کے مرکزی کاروباری مراکز میں ڈکیتی اور گاڑی چھیننے کے واقعات کی تعداد میں کمی دیکھی گئی ہے۔
ایک اعلیٰ سیکیورٹی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "ہم نے ان نیٹ ورکس کو توڑ دیا ہے جو بدامنی کو ہوا دے رہے تھے۔” ان کے مطابق ‘سیف سٹی پروجیکٹ’ کے کیمروں کی تنصیب اور پولیس کے فوری رسپانس نے اس کامیابی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
تاہم، حقائق کا دوسرا رخ بھی ہے۔ اگرچہ دہشت گردی کے بڑے واقعات میں کمی آئی ہے، لیکن جرائم پیشہ عناصر نے اپنا طریقہ کار تبدیل کر لیا ہے۔ روایتی ڈکیتیوں کی جگہ اب سائبر فراڈ اور موبائل کے ذریعے مالی دھوکہ دہی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ان اعداد و شمار پر عوامی اعتماد اب بھی ایک متنازع معاملہ ہے۔ صوبائی اسمبلی میں اپوزیشن ارکان نے اس رپورٹ کو "زمینی حقائق سے دور” قرار دیا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ تھانوں میں مقدمات کے اندراج کی حوصلہ شکنی کی وجہ سے جرائم کی اصل شرح رپورٹ نہیں ہو رہی۔ پسماندہ علاقوں کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ پولیس کے پاس جانے کے خوف کے باعث بہت سے واقعات تھانے کی دہلیز تک پہنچ ہی نہیں پاتے۔
صوبائی حکومت اب اس دباؤ میں ہے کہ یہ بہتری محض ایک عارضی رجحان ثابت نہ ہو۔ بجٹ کا نیا سیشن قریب ہے، اور پولیس محکمہ نگرانی کے نیٹ ورک کو مزید پھیلانے کے لیے فنڈز کا مطالبہ کر رہا ہے۔
یہ اعداد و شمار ایک مستقل تبدیلی ہیں یا جرائم پیشہ گروہوں کی جانب سے محض ایک وقتی حکمت عملی، اس کا فیصلہ عدالتی سزاؤں کی شرح سے ہی ممکن ہوگا۔ فی الحال، سندھ کی سڑکیں اعداد و شمار کی حد تک تو محفوظ نظر آتی ہیں، لیکن منظم جرائم کا سایہ اب بھی برقرار ہے۔
