صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے مقبوضہ کشمیر اور پنجاب کے بالائی علاقوں میں جاری موسلادھار بارشوں کے بعد دریائے چناب کے قریبی اضلاع کے لیے ہنگامی فلڈ وارننگ جاری کر دی ہے۔
ہیڈ مرالہ کے مقام پر پانی کی سطح تیزی سے بلند ہو رہی ہے۔ حکام کے مطابق پانی کا بہاؤ ایک لاکھ کیوسک سے تجاوز کر چکا ہے اور بالائی علاقوں سے آنے والے ریلوں کے باعث اس میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ سیالکوٹ، گجرات اور حافظ آباد کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ رہنے اور دریائے چناب کے قریبی نشیبی علاقوں میں فوری طور پر ریسکیو ٹیمیں تعینات کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
پانی کی بڑھتی ہوئی سطح دریا کے کنارے آباد بستیوں کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ خاص طور پر کچے مکانات میں رہنے والے مکینوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ رات پڑنے سے قبل محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں۔ محکمہ آبپاشی نے تمام ملازمین کی چھٹیاں منسوخ کر دی ہیں تاکہ پشتے بندوں کی چوبیس گھنٹے نگرانی ممکن بنائی جا سکے۔
فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا، "ہم ہر گھنٹے ہیڈ مرالہ سے پانی کے اخراج کی نگرانی کر رہے ہیں۔ اصل مسئلہ صرف موجودہ حجم نہیں، بلکہ پانی کے جمع ہونے کی رفتار ہے۔ اگلے 24 گھنٹوں کے دوران درمیانے درجے کے سیلاب کا خطرہ موجود ہے۔”
اگرچہ حکام نے متاثرہ دیہاتوں میں سائرن بجا کر لوگوں کو خبردار کرنا شروع کر دیا ہے، لیکن مواصلات کا نظام اب بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ دریائے چناب کے ساتھ واقع کئی دور دراز کمیونٹیز تک بروقت معلومات کی رسائی نہ ہونے کے برابر ہے، جہاں لوگ اب بھی مساجد کے لاؤڈ سپیکرز اور مقامی ذرائع پر انحصار کر رہے ہیں۔
یہ صورتحال ایک غیر معمولی مون سون سیزن کا نتیجہ ہے، جس نے زمین کی پانی جذب کرنے کی صلاحیت کو پہلے ہی ختم کر دیا ہے۔ محکمہ موسمیات کی جانب سے بالائی کیچمنٹ کے علاقوں میں مزید بارشوں کی پیش گوئی نے مرالہ اور خانکی بیراج پر دباؤ بڑھا دیا ہے، جس کے ہفتے کے آخر تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔
دریائے چناب کے ساتھ آباد کاشتکاروں کے لیے یہ وقت انتہائی نازک ہے۔ اگر پانی کناروں سے باہر نکلتا ہے تو دریا کے قریبی علاقوں میں کھڑی فصلیں مکمل تباہی کا شکار ہو سکتی ہیں۔
پی ڈی ایم اے نے تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ دریا کے سیلابی راستوں سے تجاوزات فوری ہٹائیں۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا یہ احکامات بروقت عملی جامہ پہنا کر جانی و مالی نقصان کو روکا جا سکتا ہے یا نہیں۔
