لاہور ہائی کورٹ نے بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو حکم دیا ہے کہ وہ واجب الادا بلوں کی بنیاد پر گھریلو صارفین کے بجلی کے کنکشن بغیر پیشگی اطلاع منقطع نہیں کر سکتیں۔ جسٹس شاہد کریم نے کیس کی سماعت کے بعد فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ بجلی کاٹنا کسی بھی کمپنی کا صوابدیدی اختیار نہیں بلکہ ایک قانونی عمل کا متقاضی ہے۔
عدالت نے اپنے تحریری حکم میں واضح کیا کہ بجلی ایک بنیادی ضرورت ہے اور کمپنیوں کا بغیر کسی نوٹس کے سپلائی منقطع کرنا صارفین کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ اب کمپنیوں کو کسی بھی کارروائی سے قبل صارف کو شوکاز نوٹس جاری کرنا ہوگا اور انہیں اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دینا لازمی ہوگا۔
اس مقدمے میں درخواست گزاروں کا موقف تھا کہ بجلی کمپنیاں اکثر بلنگ میں غلطیوں یا میٹرز کے تکنیکی مسائل پر غور کیے بغیر فوری طور پر بجلی کاٹ دیتی ہیں۔ صارفین کو اپنا حق ثابت کرنے کے لیے پہلے بھاری رقوم ادا کرنی پڑتی ہیں، جس کے بعد ان کی بجلی بحال ہوتی ہے۔ عدالت کے اس فیصلے سے اب کمپنیوں کے اس "پہلے بجلی کاٹو، پھر بات سنو” والے رویے پر قانونی قدغن لگ گئی ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ صارفین کے تحفظ کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔ اب اگر کسی صارف کو بلنگ پر اعتراض ہے یا میٹر خراب ہے، تو کمپنی اسے فوری طور پر اندھیرے میں نہیں دھکیل سکے گی۔ نیپرا کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس نئے ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد کو یقینی بنائے۔
فیصلے کا نفاذ فوری طور پر ہوگا، تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ بجلی کمپنیاں اس عدالتی حکم کو کس حد تک عملی جامہ پہناتی ہیں۔ ایک ایسا نظام جس میں صارفین کو پہلے سنے بغیر سزا دی جاتی تھی، اب قانونی دائرہ کار میں آنے کے بعد کمپنیوں کو اپنے بلنگ کے نظام میں شفافیت لانے پر مجبور کرے گا۔
