بوگوٹا — منگل کی صبح کولمبیا کے مرکزی علاقوں میں آنے والے 6.1 شدت کے زلزلے نے نومنتخب صدر ایبیلارڈو ڈی لا ایسپریلا کی انتظامیہ کو اقتدار سنبھالنے کے چند ہفتوں بعد ہی ایک بڑے بحران میں دھکیل دیا ہے۔ زلزلے کے جھٹکے اتنے شدید تھے کہ دارالحکومت بوگوٹا میں خوف و ہراس پھیل گیا، جبکہ میٹا اور کنڈینا مارکا کے علاقوں میں متعدد عمارتوں کے گرنے کی اطلاعات ہیں۔
بطور وکیل اپنی پہچان بنانے والے ڈی لا ایسپریلا کے لیے یہ محض ایک قدرتی آفت نہیں، بلکہ ان کی انتظامی صلاحیتوں کا پہلا کڑا امتحان ہے۔ زلزلے کے دو گھنٹے کے اندر، صدر نے نیشنل یونٹ فار ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ کے ہیڈ کوارٹر پہنچ کر صورتحال کا جائزہ لیا۔ انہوں نے روایتی بیوروکریٹک سستی دکھانے کے بجائے فوری طور پر امدادی کارروائیوں کی نگرانی شروع کی۔
زلزلہ زدہ علاقوں سے اب تک چار ہلاکتوں کی تصدیق ہو چکی ہے، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ ملبے تلے دبے افراد کی تلاش جاری ہے، جس سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ سڑکیں ٹوٹنے اور مواصلاتی نظام درہم برہم ہونے کی وجہ سے دور دراز علاقوں تک رسائی ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ڈی لا ایسپریلا نے کہا، "ہم تمام دستیاب وسائل مرکزِ زلزلہ کی جانب منتقل کر رہے ہیں۔ میری ترجیح سیاسی نمائش نہیں، بلکہ ان خاندانوں کو فوری مدد فراہم کرنا ہے جن کے سر سے چھت چھن گئی ہے۔”
حزب اختلاف کے رہنماؤں نے حکومت کی تیاریوں پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کی بحالی پر پہلے سے توجہ نہیں دی گئی، جس کا خمیازہ اب عوام بھگت رہے ہیں۔ یہ تنقید ڈی لا ایسپریلا کے لیے سیاسی دباؤ کا باعث بن رہی ہے، کیونکہ انہیں نہ صرف امدادی کاموں کو تیز کرنا ہے بلکہ بجٹ کے محدود وسائل میں رہتے ہوئے بحالی کا عمل بھی مکمل کرنا ہے۔
کولمبیا کی پہاڑی جغرافیائی ساخت امدادی سامان کی ترسیل میں بڑی رکاوٹ ہے۔ صدر کی کامیابی کا دارومدار اس بات پر ہے کہ وہ کتنی تیزی سے متاثرین تک خوراک اور طبی سہولیات پہنچاتے ہیں۔
آئندہ 48 گھنٹے اس نئی حکومت کے لیے فیصلہ کن ہوں گے۔ اگر امدادی کارروائیاں بروقت مکمل ہوئیں تو یہ صدر کے لیے ایک ابتدائی سیاسی کامیابی ثابت ہوگی، بصورتِ دیگر یہ بحران ان کے دورِ صدارت پر ایک گہرا داغ چھوڑ سکتا ہے۔ ڈی لا ایسپریلا اب ایک وکیل کی حیثیت سے نہیں، بلکہ ایک ایسے حکمران کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں جس کے فیصلوں پر ہزاروں زندگیاں منحصر ہیں۔
