کراچی کے علاقے ڈیفنس میں خواتین پولیس اہلکاروں کی تعیناتی کے معاملے پر ہونے والی تحقیقات مکمل ہو گئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، ان اہلکاروں کو ایس ایس پی ساؤتھ فدا جانوری کی منظوری یا احکامات کے بغیر تعینات کیا گیا تھا۔
یہ انکشاف ضلعی پولیس کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم میں پائی جانے والی بڑی خامیوں کو ظاہر کرتا ہے۔ ایس ایس پی ساؤتھ کا مؤقف تھا کہ انہیں اس تعیناتی کا کوئی علم نہیں تھا، اور تحقیقاتی ٹیم نے اب ان کے اس دعوے کی تصدیق کر دی ہے۔ ضلعی سربراہ کی لاعلمی میں اہلکاروں کی نقل و حرکت کا مطلب یہ ہے کہ متعلقہ افسران نے نہ صرف قواعد کو نظر انداز کیا بلکہ چین آف کمانڈ کو بھی بائی پاس کیا۔
ایسے حالات میں جب پولیس کا پورا نظام سخت ضابطہ اخلاق اور تحریری احکامات پر چلتا ہو، بغیر اجازت تعیناتی ایک سنگین انتظامی غلطی ہے۔ اس سے نہ صرف اہلکاروں کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھتے ہیں بلکہ یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ ضلع کی سطح پر فیصلے کرنے کے اختیارات کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔
تحقیقاتی رپورٹ اب اعلیٰ حکام کو بھیج دی گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر ایس ایس پی نے حکم نہیں دیا، تو پھر یہ احکامات کس نے جاری کیے؟ کیا یہ محض ایک دفتری غفلت تھی یا پھر ضلعی قیادت کو نظر انداز کرنے کی کوئی سوچی سمجھی کوشش؟
اب گیند محکمہ پولیس کے اعلیٰ افسران کی کورٹ میں ہے۔ یہ رپورٹ انتظامی کارروائی کی بنیاد بنے گی، تاہم اس واقعے نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ڈیفنس جیسے حساس علاقے میں بھی پولیس کے اندرونی نظم و نسق میں سنگین دراڑیں موجود ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ان قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے ذمہ داروں کے خلاف کیا کارروائی کی جاتی ہے۔
