نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے لیے ہنگامی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران شدید بارشیں مقامی ندی نالوں میں طغیانی اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا باعث بن سکتی ہیں۔
شمالی علاقوں میں موسم کا نیا سلسلہ داخل ہو چکا ہے۔ پہاڑی ڈھلوانوں پر موجود مٹی پہلے ہی نمی سے بوجھل ہے، اور مزید بارش کسی بھی وقت تودے گرنے کا سبب بن سکتی ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف رہائشی آبادی بلکہ ان شاہراہوں کے لیے بھی خطرہ ہے جو ان علاقوں کو ملک کے باقی حصوں سے ملاتی ہیں۔
این ڈی ایم اے نے تمام متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے اور بھاری مشینری کو حساس مقامات پر پہنچانے کی ہدایت کی ہے۔ تاہم، زمینی حقائق کچھ مختلف ہیں۔ چترال، کوہستان اور وادی نیلم جیسے دور دراز علاقوں میں مقامی انتظامیہ کے پاس اکثر محدود وسائل ہوتے ہیں۔ جب لینڈ سلائیڈنگ سے راستے بند ہوتے ہیں، تو ان علاقوں کا زمینی رابطہ کئی روز تک منقطع رہتا ہے۔
ادارے کے ایک ترجمان نے مختصر بیان میں کہا کہ "ہم صورتحال پر 24 گھنٹے نظر رکھے ہوئے ہیں،” لیکن انہوں نے ان علاقوں میں ہنگامی امدادی سامان کی فراہمی کے بارے میں کوئی ٹھوس لائحہ عمل واضح نہیں کیا۔
یہ انتباہ ان علاقوں کے لیے خاص طور پر تشویشناک ہے جہاں حالیہ برسوں میں انفراسٹرکچر پہلے ہی شدید متاثر ہو چکا ہے۔ اگر بارشوں کا سلسلہ پیش گوئی کے مطابق رہا تو ندی نالوں میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بڑھ سکتی ہے۔
مسافروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ قراقرم ہائی وے اور دیگر پہاڑی راستوں پر غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔ اگر آپ شمالی بیلٹ میں موجود ہیں، تو مال مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے اور گھروں کی چھتوں کی مرمت کے لیے وقت بہت کم ہے۔
اگلے دو روز انتہائی اہم ہیں۔ این ڈی ایم اے کی وارننگ کتنی موثر ثابت ہوگی، اس کا فیصلہ ان مقامی ٹیموں کی کارکردگی سے ہوگا جو ممکنہ تباہی کو روکنے کے لیے میدان میں موجود ہیں۔
