سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی صحت سے متعلق ویڈیوز میں تخم ملنگا کو کولیسٹرول کا "قدرتی علاج” قرار دیا جا رہا ہے۔ دعویٰ یہ ہے کہ روزانہ پانی میں بھیگا ہوا ایک چمچ تخم ملنگا شریانوں سے کولیسٹرول کو صاف کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ طبی مشورے جتنے پرکشش ہیں، اتنے ہی سائنسی اعتبار سے ناقص بھی۔
تخم ملنگا فائبر کا بہترین ذریعہ ضرور ہے، لیکن اسے دل کی بیماریوں کا حتمی علاج سمجھنا ایک بڑی غلط فہمی ہے۔
تخم ملنگا کی افادیت کا راز اس میں موجود حل پذیر فائبر ہے۔ جب انہیں پانی میں بھگویا جاتا ہے تو یہ ایک جیل نما تہہ بنا لیتے ہیں۔ نظامِ ہضم میں یہ جیل خوراک سے حاصل ہونے والے کولیسٹرول کو اپنے ساتھ لپیٹ لیتا ہے، جس سے خون میں اس کے جذب ہونے کی شرح کچھ حد تک کم ہو سکتی ہے۔ یہ ایک حیاتیاتی عمل ہے، مگر اس کی بھی ایک حد ہے۔
ماہرِ غذائیت ڈاکٹر ارشد خان کہتے ہیں، "فائبر کولیسٹرول کو کنٹرول کرنے میں مددگار ضرور ہے، لیکن یہ کوئی جادوئی دوا نہیں ہے۔ اگر آپ کی خوراک میں چکنائی اور پراسیسڈ آئل کی مقدار زیادہ ہے، تو تخم ملنگا کا ایک چمچ اس نقصان کا ازالہ نہیں کر سکتا۔”
اگر ہم سائنسی تحقیق کا جائزہ لیں تو تخم ملنگا پر ہونے والے زیادہ تر تجربات جانوروں پر کیے گئے ہیں۔ انسانوں پر اس کے اثرات کے حوالے سے مستند اور وسیع ڈیٹا تاحال موجود نہیں۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے "معجزاتی” دعوے اکثر جانوروں پر ہونے والی ابتدائی تحقیق کو انسانی جسم پر لاگو کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
یہ بیج دل کے مریضوں کے لیے مفید ضرور ہو سکتے ہیں، لیکن کسی اور طریقے سے۔ ان میں موجود فائبر خون میں شوگر کی سطح کو اچانک بڑھنے سے روکتا ہے، جو بالواسطہ طور پر میٹابولک صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔ اس کے علاوہ، ان میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈز بھی پائے جاتے ہیں جو دل کی کارکردگی کو بہتر بناتے ہیں۔
تاہم، کولیسٹرول کو صرف ایک سپر فوڈ کے سہارے چھوڑ دینا خطرناک ہو سکتا ہے۔ ہائی کولیسٹرول ایک پیچیدہ طبی مسئلہ ہے جس کے لیے متوازن غذا، جسمانی ورزش اور ضرورت پڑنے پر ڈاکٹر کی تجویز کردہ ادویات ناگزیر ہیں۔
ڈاکٹر ارشد خان مزید کہتے ہیں، "مریض اکثر کسی ایک ایسی چیز کی تلاش میں ہوتے ہیں جو ان کی بگڑی ہوئی طرزِ زندگی کو ٹھیک کر دے۔ تخم ملنگا ایک صحت بخش اضافہ ہے، مگر یہ سست طرزِ زندگی یا غیر صحت مندانہ غذا کا متبادل ہرگز نہیں بن سکتا۔”
خلاصہ یہ کہ تخم ملنگا آپ کی کچن کی الماری میں ایک مفید چیز ہے، ڈاکٹر کے نسخے کا نعم البدل نہیں۔ اگر آپ کے لیبارٹری ٹیسٹ میں ایل ڈی ایل کولیسٹرول کی سطح خطرناک حد تک زیادہ ہے، تو اپنی توجہ تخم ملنگا کے بجائے ایک ماہر امراضِ قلب کے مشورے اور طرزِ زندگی میں ٹھوس تبدیلیوں پر مرکوز رکھیں۔
