پاکستان کی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی (ڈریپ) نے کینسر کے علاج میں استعمال ہونے والی نو ادویات کو ناقص اور جعلی قرار دیتے ہوئے انہیں فوری طور پر مارکیٹ سے واپس منگوانے کا حکم دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ ان ہزاروں مریضوں کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے جو پہلے ہی علاج کے مہنگے اخراجات اور ادویات کی قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔
ڈریپ کی جانب سے جاری کردہ الرٹ میں ملک بھر کے ہسپتالوں اور میڈیکل اسٹورز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مذکورہ ادویات کی تمام کھیپوں کو فوری طور پر سیل کر دیں۔ ان ادویات میں درآمد شدہ اور مقامی طور پر تیار کردہ دونوں اقسام شامل ہیں جو کیموتھراپی اور کینسر کے مریضوں کی دیکھ بھال میں استعمال ہوتی ہیں۔
لیبارٹری ٹیسٹ کے دوران ان ادویات کے معیار میں سنگین خامیاں پائی گئیں۔ کچھ نمونوں میں فعال اجزاء کی مقدار مطلوبہ حد سے بہت کم تھی، جس کا مطلب ہے کہ یہ دوائیں مریضوں پر اثر ہی نہیں کر سکتیں۔ دیگر نمونے جراثیم سے پاک نہیں تھے، جو کمزور قوت مدافعت والے کینسر کے مریضوں کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتے ہیں۔
ڈریپ کے ایک اعلیٰ افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ہماری اولین ترجیح ان ادویات کو مارکیٹ سے ہٹانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس بات کا تعین کر رہے ہیں کہ یہ جعلی اور ناقص ادویات سپلائی چین میں کہاں سے داخل ہوئیں، تاہم فی الحال توجہ مریضوں کو مزید نقصان سے بچانے پر مرکوز ہے۔
یہ واقعہ پاکستان کی فارماسیوٹیکل سپلائی چین کی نگرانی کے نظام پر بڑے سوالات اٹھا رہا ہے۔ اگرچہ حکومت سخت کارروائی کے دعوے کرتی ہے، لیکن کینسر جیسی حساس بیماری کی ادویات میں جعل سازی ظاہر کرتی ہے کہ مجرمانہ نیٹ ورک سیکیورٹی پروٹوکولز کو بائی پاس کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ اکثر اوقات اصلی پیکیجنگ پر جعلی بیچ نمبر درج کر کے دھوکہ دیا جاتا ہے۔
کینسر کے مریضوں کے لیے یہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ کیموتھراپی کا عمل درست مقدار میں دوا کی فراہمی پر منحصر ہوتا ہے۔ ایک بھی غیر مؤثر خوراک کینسر کے خلیات کو مزاحم بنا سکتی ہے، جس سے مریض کے صحت یاب ہونے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔
ڈریپ کی جانب سے ان نو برانڈز اور متعلقہ بیچ نمبرز کی مکمل فہرست جلد جاری کی جائے گی۔ طبی ماہرین نے مریضوں کے لواحقین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی ادویات کا دوبارہ جائزہ لیں اور کسی بھی مشکوک دوا کی صورت میں اپنے آنکولوجسٹ سے فوری رابطہ کریں۔
ابھی تک حکومت کی جانب سے ان ادویات کی تقسیم میں ملوث عناصر کی گرفتاری کے حوالے سے کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ فی الحال، وزارتِ صحت کا سارا زور ادویات کی بازیابی پر ہے تاکہ کسی بھی مزید جانی نقصان کو روکا جا سکے۔
