کراچی: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے منگل کے روز بی آر ٹی ریڈ لائن اور اس سے ملحقہ سڑکوں کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے جاری تعمیراتی کام کی سست رفتاری پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کام کو فوری مکمل کرنے کی ہدایات جاری کیں۔
شہر کے گنجان آباد مشرقی کوریڈور کے لیے شروع کیا گیا یہ منصوبہ طویل عرصے سے تاخیر کا شکار ہے۔ وزیراعلیٰ کا یونیورسٹی روڈ پر دورہ محض ایک رسمی معائنہ نہیں تھا، بلکہ اس کا مقصد ٹھیکیداروں اور یوٹیلیٹی ایجنسیوں کے مابین پیدا ہونے والے تعطل کو ختم کرنا تھا، جس کی وجہ سے شہر کی اہم شاہراہوں پر ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو چکا ہے۔
موقع پر موجود افسران کو مخاطب کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ "عوام کو لامتناہی تعمیراتی کام کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔” انہوں نے ٹرانسپورٹ ڈپارٹمنٹ کو ہدایت کی کہ نیپا اور صفورہ گوٹھ کے قریب مرکزی ٹریک پر کام کی رفتار بڑھائی جائے، جہاں کھدائی اور گرد و غبار نے مقامی کاروبار اور ٹریفک کی روانی کو بری طرح متاثر کر رکھا ہے۔
ایشیا کا پہلا بائیو میتھین سے چلنے والا یہ بس سسٹم کئی رکاوٹوں کا سامنا کر رہا ہے۔ یوٹیلیٹیز کی منتقلی میں تاخیر، فنڈز کے مسائل اور کے ایم سی و صوبائی حکومت کے مابین ہم آہنگی کا فقدان سڑکوں کی خستہ حالی کا بنیادی سبب ہے۔
وزیراعلیٰ نے سیکریٹری بلدیات کو حکم دیا کہ آئندہ دس دنوں کے اندر ملحقہ سروس روڈز کو ہموار اور کارپٹ کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑے منصوبوں میں وقت لگتا ہے، لیکن شہریوں کی روزمرہ کی اذیت اب مزید برداشت نہیں کی جا سکتی۔
ٹھیکیداروں کو تنبیہ کی گئی کہ کام میں مزید تاخیر کی صورت میں جرمانے عائد کیے جائیں گے۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ وزیراعلیٰ کی یہ ہدایات زمین پر نظر آتی ہیں یا یہ صرف بریفنگ روم تک محدود رہیں گی۔
