سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے وسیع علاقوں میں شدید گرمی کی لہر نے معمولاتِ زندگی درہم برہم کر دیے ہیں۔ پارہ 45 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر جانے کے بعد کراچی، حیدرآباد اور جیکب آباد کے ہسپتالوں میں ہیٹ اسٹروک کے مریضوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ بجلی کی طلب میں اضافے کے باعث گرڈ اسٹیشنز شدید دباؤ کا شکار ہیں۔
محکمہ موسمیات نے ریڈ الرٹ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ شدید گرمی کا یہ سلسلہ اگلے 72 گھنٹوں تک جاری رہے گا۔ ساحلی علاقوں میں درجہ حرارت نسبتاً کم ہے، تاہم ہوا میں نمی کا تناسب ‘فیلز لائک’ درجہ حرارت کو خطرناک حد تک بڑھا رہا ہے، جس سے حبس میں اضافہ ہوا ہے۔
جیکب آباد — جو دنیا کے گرم ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے — کی سڑکیں دوپہر ہوتے ہی ویران ہو جاتی ہیں۔ ضلعی انتظامیہ نے شہر بھر میں ‘ہیٹ ریلیف سینٹرز’ قائم کیے ہیں جہاں پانی اور بنیادی طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے، تاہم متاثرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے سامنے یہ اقدامات ناکافی ثابت ہو رہے ہیں۔
حیدرآباد کے ایک سرکاری ہسپتال کے سینئر فزیشن ڈاکٹر طارق منصور کا کہنا ہے کہ "ہمارے پاس چکر آنے، بے ہوشی اور شدید پانی کی کمی کے شکار مریضوں میں 30 فیصد اضافہ ہوا ہے۔” انہوں نے خبردار کیا کہ بزرگ اور بچے سب سے زیادہ خطرے میں ہیں، اس لیے صبح 11 بجے سے سہ پہر 4 بجے تک گھر سے باہر نکلنے سے گریز کریں۔
اس صورتحال کا معاشی اثر بھی نمایاں ہے۔ جنوبی پنجاب میں زرعی شعبے سے وابستہ افراد نے دھوپ سے بچنے کے لیے کام کے اوقات کار فجر سے پہلے منتقل کر دیے ہیں، جس سے فصلوں کی کٹائی کا عمل سست ہو گیا ہے۔ دوسری جانب شہری علاقوں میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے گھروں کو تپتے ہوئے تنور میں بدل دیا ہے۔
صوبائی حکومتوں نے اسکولوں کے اوقات کار میں تبدیلی کا حکم دیا ہے، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ہنگامی نوعیت کے ہیں، مستقل حل نہیں۔ بدلتی ہوئی آب و ہوا کے باعث شدید گرمی کے یہ واقعات اب معمول بن چکے ہیں، لیکن اس کا مقابلہ کرنے کے لیے درکار بنیادی ڈھانچہ ایک دہائی پرانی حالت میں کھڑا ہے۔
