یوکوہاما: ڈائمنڈ پرنسس کروز شپ پر دو ہفتوں تک جاری رہنے والی خوفناک قرنطینہ کے بعد، پہلے گروپ نے جہاز سے قدم باہر نکال لیا۔ یہ لگژری سفر ایک تیرتے ہوئے آئسولیشن وارڈ میں تبدیل ہو چکا تھا۔
441 مسافروں کو، جن کے ٹیسٹ منفی آئے اور جن میں بیماری کی کوئی علامات نہیں تھیں، جہاز سے اترنے کی اجازت دی گئی۔ یہ مسافر ماسک پہنے، اپنا سامان سنبھالے جہاز سے نکلے تو ان کے چہروں پر طویل قید کے خاتمے کا اطمینان واضح تھا۔ ان میں سے زیادہ تر اب اپنے وطن واپسی کے لیے سیدھے ایئرپورٹ کا رخ کر رہے ہیں۔
جاپانی حکام نے ان افراد کو کلیئرنس تو دے دی، لیکن جہاز اب بھی عالمی سطح پر تشویش کا مرکز ہے۔ جہاز پر سوار 600 سے زائد افراد وائرس کا شکار ہو چکے ہیں۔ ماہرین اب سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا جہاز کا وینٹیلیشن سسٹم اور تنگ کیبن دراصل وائرس کے پھیلاؤ کا سبب بنے؟
ایک مسافر نے بس میں سوار ہونے سے قبل صحافیوں سے مختصر بات کرتے ہوئے کہا، "یہ ایک قید خانہ تھا۔ سب سے مشکل مرحلہ غیر یقینی صورتحال تھی۔ ہمیں یہ تک معلوم نہیں تھا کہ ساتھ والے کیبن میں موجود شخص بیمار ہے یا نہیں، اور کیا اے سی کے ذریعے وائرس ہم تک پہنچ رہا ہے۔”
جاپانی حکومت کو اس وبا کو سنبھالنے کے طریقہ کار پر عالمی سطح پر تنقید کا سامنا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ہزاروں افراد کو ایک محدود جگہ پر بند رکھنا ایک بڑی ناکامی تھی۔ اگرچہ جاپان کا موقف ہے کہ ان کے پروٹوکول ضروری تھے، مگر وائرس کی تیزی سے پھیلاؤ نے ثابت کیا کہ جہاز ایک محفوظ پناہ گاہ کے بجائے وبا کا مرکز بن چکا تھا۔
جو مسافر ابھی بھی جہاز پر موجود ہیں، ان کی مشکلات ختم نہیں ہوئیں۔ انہیں مزید ٹیسٹ اور ممکنہ طور پر مزید کئی ہفتوں کی تنہائی کا سامنا ہے۔ مسافروں میں حکام کی جانب سے غیر واضح ہدایات اور وقت پر فیصلے نہ ہونے کی وجہ سے شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
جیسے ہی پہلی بسیں بندرگاہ سے روانہ ہوئیں، توجہ اب مسافروں کی ٹرانسپورٹ کے انتظامات پر مرکوز ہو گئی ہے۔ امریکہ، کینیڈا اور آسٹریلیا سمیت کئی ممالک اپنے شہریوں کو نکالنے کی کوششوں میں مصروف ہیں، تاہم واپسی پر بھی ان افراد کو اپنے ملکوں میں دوبارہ قرنطینہ کے مراحل سے گزرنا ہوگا۔
