نیوزی لینڈ نے چٹوگرام میں تیسرے اور فیصلہ کن ون ڈے میں ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا، جبکہ تین میچوں کی سیریز اس وقت 1-1 سے برابر ہے۔ یہ میچ 23 اپریل 2026 کو بیرشریشٹھو فلائٹ لیفٹیننٹ مطیع الرحمٰن اسٹیڈیم میں کھیلا جا رہا ہے، اس لیے اس مقابلے کی اہمیت معمول سے کہیں زیادہ ہو گئی ہے۔
بنگلہ دیش نے اپنی پلیئنگ الیون میں دو اہم تبدیلیاں کیں اور تنویر اسلام اور مستفیض الرحمان کو شامل کیا۔ دوسری جانب نیوزی لینڈ نے بھی ایک تبدیلی کرتے ہوئے بین لسٹر کو ٹیم میں جگہ دی۔ ٹیموں کے یہ فیصلے صاف بتا رہے تھے کہ دونوں کپتان فیصلہ کن میچ میں تازہ کمبی نیشن کے ساتھ اترنا چاہتے تھے۔
اس میچ سے پہلے سیریز کا پس منظر بھی خاصا دلچسپ رہا۔ نیوزی لینڈ نے پہلا ون ڈے 26 رنز سے جیتا تھا، لیکن بنگلہ دیش نے دوسرے میچ میں واپسی کرتے ہوئے سیریز برابر کر دی۔ اسی وجہ سے چٹوگرام کا یہ مقابلہ محض آخری میچ نہیں رہا بلکہ پوری سیریز کا رخ متعین کرنے والا معرکہ بن گیا۔
ابتدائی اوورز میں نیوزی لینڈ کا ٹاس جیت کر پہلے گیند بازی کرنے کا فیصلہ درست ثابت ہوتا دکھائی دیا۔ بنگلہ دیش کی ٹیم شروع ہی میں دباؤ میں آ گئی اور ول او رورک نے نئی گیند سے نمایاں نقصان پہنچایا۔ اوپنر سیف حسن کھاتہ کھولے بغیر آؤٹ ہوئے، تنزید حسن بھی زیادہ دیر نہ ٹھہر سکے، جبکہ سومیہ سرکار کی وکٹ نے میزبان ٹیم کو مزید مشکل میں ڈال دیا۔
اس ابتدائی جھٹکے کے بعد بنگلہ دیش نے اننگز سنبھالنے کی کوشش کی۔ لائیو اسکور کے مطابق 27.3 اوورز کے بعد بنگلہ دیش 116 رنز پر 3 وکٹیں کھو چکا تھا، اور اس وقت نجم الحسن شانتو 58 جبکہ لٹن داس 34 رنز کے ساتھ کریز پر موجود تھے۔ دونوں بلے بازوں نے ابتدائی نقصان کے بعد اننگز کو سہارا دینے کی کوشش کی اور میچ کو یک طرفہ ہونے سے بچایا۔
بنگلہ دیش کے لیے مستفیض الرحمان کی واپسی اہم سمجھی جا رہی ہے، کیونکہ وہ ڈیتھ اوورز میں تجربہ اور کنٹرول فراہم کرتے ہیں، جبکہ تنویر اسلام کی شمولیت سے اسپن آپشن میں اضافہ ہوا ہے۔ نیوزی لینڈ نے دوسری طرف ابتدا ہی سے دباؤ بنانے کی حکمت عملی اپنائی، اور کم از کم پہلے مرحلے میں ان کی منصوبہ بندی کامیاب نظر آئی۔
