ناسا نے طویل قیاس آرائیوں کے بعد آرٹیمس III مشن کے لیے چار رکنی عملے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ مشن 50 سال سے زائد عرصے کے بعد انسانوں کو دوبارہ چاند کی سطح پر اتارے گا۔
کمانڈر کرس ریڈ، پائلٹ اسٹیفنی ولسن، اور مشن اسپیشلسٹ وکٹر گلوور اور سارہ ہال اس تاریخی مہم کی قیادت کریں گے۔ اس ٹیم کا انتخاب ناسا کی خلائی حکمت عملی میں ایک اہم تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے، جس میں تجربہ کار خلا بازوں کے ساتھ ساتھ پہلی بار کسی خاتون اور غیر سفید فام فرد کو چاند پر اتارنے کا ہدف بھی شامل ہے۔
اس مشن کا انحصار اسپیس ایکس (SpaceX) کے اسٹار شپ لینڈنگ وہیکل پر ہوگا۔ ناسا کا کسی نجی کمپنی کے تیار کردہ لینڈنگ سسٹم پر انحصار اپالو دور کی ٹیکنالوجی سے مکمل انحراف ہے۔ اورین (Orion) خلائی جہاز عملے کو چاند کے مدار تک لے جائے گا، لیکن اس کے بعد اسٹار شپ میں منتقلی اور وہاں سے چاند کی سطح پر اترنا اس مشن کا سب سے پیچیدہ اور تکنیکی لحاظ سے مشکل ترین مرحلہ ہوگا۔
ناسا کے ایڈمنسٹریٹر بل نیلسن نے جانسن اسپیس سینٹر میں اعلان کرتے ہوئے کہا، "ہم صرف نشان چھوڑنے کے لیے واپس نہیں جا رہے، ہم وہاں قیام کرنے، سیکھنے اور مریخ کے اگلے بڑے سفر کے لیے ضروری بنیادی ڈھانچہ تعمیر کرنے جا رہے ہیں۔”
عملے کو اگلے 24 ماہ کی سخت تربیت سے گزرنا ہوگا۔ انہیں چاند کے قطب جنوبی (Lunar South Pole) کے پیچیدہ ماحول کو سمجھنا ہوگا، جہاں شدید سائے اور برف کے ذخائر کی موجودگی کا امکان ہے۔ 1970 کی دہائی میں اترنے والی جگہوں کے برعکس، یہ علاقہ اپنی ناہموار زمین اور سورج کی انتہائی زاویہ روشنی کے باعث نیویگیشن کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔
وکٹر گلوور، جو کریو-1 مشن میں پائلٹ رہ چکے ہیں، بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر طویل قیام کا تجربہ رکھتے ہیں۔ آرٹیمس III میں ان کی ذمہ داری اورین اور لینڈنگ وہیکل کے درمیان مدار میں ہونے والی پیچیدہ ڈاکنگ کو یقینی بنانا ہوگی۔
کئی ماہرین مشن کی دی گئی ڈیڈ لائن پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔ مشن کا وقت 2026 کے آخر تک مقرر ہے، لیکن اسٹار شپ کے لائف سپورٹ سسٹم اور جدید ترین اسپیس سوٹس کی تیاری میں تاخیر نے شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے۔ اگر ہارڈویئر بروقت تیار نہ ہوا تو مشن کی تاریخ میں تبدیلی ناگزیر ہوگی، جس کا اعتراف ناسا کے حکام نجی محفلوں میں کر چکے ہیں۔
عملے کے لیے یہ صرف تکنیکی چیلنج نہیں، بلکہ آرٹیمس معاہدے کے تحت عالمی شراکت داری کا امتحان بھی ہے۔ ان کی کامیابی یا ناکامی اگلے ایک دہائی تک بین الاقوامی قمری تحقیق کی رفتار کا تعین کرے گی۔
تربیت کا آغاز اگلے ہفتے سے ہوگا۔ ٹیم آنے والے مہینے سمیلیٹرز میں چاند پر اترنے کے عمل کی مشق کرے گی—ایک ایسا سفر جو انہیں چاند کے تاریک ترین حصوں تک لے جائے گا۔
