ریو ڈی جنیرو — برازیل کے سائنسی ماہرین ڈینگی کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ایک غیر روایتی مگر مؤثر ہتھیار کا استعمال کر رہے ہیں: لیبارٹری میں تیار کردہ مچھر۔ یہ مچھر قدرتی مچھروں کی نسل کو ختم کرنے کے بجائے انہیں ‘بے ضرر’ بنانے کے مشن پر ہیں۔
اس منصوبے کی بنیاد ‘وولباکیا’ نامی بیکٹیریا پر رکھی گئی ہے۔ جب یہ بیکٹیریا ایڈیز ایجپٹی مچھروں کے جسم میں داخل کیے جاتے ہیں، تو یہ ان کے اندر وائرس کو پنپنے سے روک دیتے ہیں۔ یوں، یہ مچھر جب انسانوں کو کاٹتے ہیں تو ڈینگی، زیکا یا چکن گونیا منتقل کرنے سے قاصر ہوتے ہیں۔
برازیل کی معروف سائنسی تنظیم ‘فیوکروز’ کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جن علاقوں میں یہ مچھر چھوڑے گئے، وہاں ڈینگی کے کیسز میں 70 فیصد تک کمی دیکھی گئی۔ یہ نتائج اس وقت سامنے آئے ہیں جب برازیل میں ڈینگی کے کیسز نے گزشتہ تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ رواں برس کے ابتدائی چند مہینوں میں ہی لاکھوں افراد اس بیماری کا شکار ہوئے، جس نے ہسپتالوں پر شدید دباؤ ڈال دیا۔
حکومت نے اب اس پروگرام کو وسیع پیمانے پر پھیلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ کوریتیبا میں ایک نئی ‘مچھر فیکٹری’ قائم کی گئی ہے، جہاں ہر ماہ کروڑوں کی تعداد میں یہ خاص مچھر تیار کیے جا رہے ہیں۔ حکام کا ماننا ہے کہ روایتی سپرے اور صفائی مہمات اب اس تیزی سے پھیلتے ہوئے وائرس کو روکنے میں ناکام ہو چکی ہیں، اس لیے حیاتیاتی مداخلت ہی واحد راستہ ہے۔
ماحولیاتی ماہرین نے اس عمل کے طویل مدتی اثرات پر کچھ سوالات اٹھائے ہیں، لیکن وزارتِ صحت کا موقف واضح ہے۔ ان کے مطابق، جب تک مچھروں کی آبادی کو کنٹرول نہیں کیا جاتا، تب تک شہریوں کو ڈینگی کی سالانہ وباء سے بچانا ممکن نہیں۔
اب اصل امتحان ان مچھروں کا ہے جو ریو ڈی جنیرو اور ساؤ پالو کی گنجان آباد بستیوں میں چھوڑے جا رہے ہیں۔ اگر یہ تجربہ کامیاب رہا، تو برازیل نہ صرف اپنی آبادی کو اس جان لیوا مرض سے بچا سکے گا بلکہ دنیا بھر کے لیے ایک نیا سائنسی ماڈل بھی پیش کر دے گا۔
موسمِ گرما کی شدت جیسے جیسے بڑھے گی، یہ ننھے ‘سائنسدان’ مچھر اپنی کارکردگی کا عملی ثبوت دیں گے۔ اگر یہ کامیاب ہوئے تو برازیل کا یہ تجربہ وبائی امراض کے خلاف جنگ میں ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔
