صحارا صحرا سے دریافت ہونے والے ایک نایاب شہابیے نے اس بات کے مضبوط شواہد فراہم کیے ہیں کہ یہ ممکنہ طور پر نظامِ شمسی کے ایک قدیم اور تباہ شدہ سیارے سے آیا ہو سکتا ہے۔
سائنسدانوں کے مطابق اس پتھر کی کیمیائی ساخت زیادہ تر معروف شہابیوں سے مختلف ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ کسی ایسے سیاروی جسم سے آیا ہے جو اب موجود نہیں ہے۔ یہ دریافت اس نظریے کی حمایت کرتی ہے کہ ابتدائی نظامِ شمسی میں کئی پروٹو پلانیٹس (ابتدائی سیارے) موجود تھے جو بعد میں ٹکرا کر ٹوٹ گئے۔
محققین نے اس نمونے میں موجود معدنی ساخت کا تجزیہ کیا تو انہیں شدید حرارت اور سیاروی سطح کی تشکیل کے آثار ملے، جو عام طور پر بڑے سیاروں میں پائے جاتے ہیں نہ کہ چھوٹے شہابیوں میں۔ اس سے یہ امکان مضبوط ہوتا ہے کہ یہ شہابیہ ایک “گمشدہ سیارے” کا ٹکڑا ہو سکتا ہے جو اربوں سال پہلے تباہ ہو گیا تھا۔
یہ دریافت اس لیے اہم ہے کیونکہ یہ سائنسدانوں کو نظامِ شمسی کی ابتدائی تشکیل اور ارتقا کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ اس سے زمین اور دیگر سیاروں کی تشکیل میں ہونے والے بڑے تصادمات کے بارے میں بھی معلومات ملتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اسی طرح کے مزید شہابیے دریافت اور تجزیہ کیے جائیں تو قدیم سیاروی جسموں اور ابتدائی کائناتی ماحول کے بارے میں مزید راز سامنے آ سکتے ہیں۔
