کراچی کی تنگ گلیاں اور ٹوٹے پھوٹے کنکریٹ کے میدان اب فٹ بال کے دیوانوں سے بھر چکے ہیں۔ 2026 کے فیفا ورلڈ کپ کی آمد کے ساتھ ہی شہرِ قائد میں فٹ بال کا جنون اسٹیڈیمز سے نکل کر گلی کوچوں تک پہنچ گیا ہے، جہاں نوجوانوں نے ویران کونوں کو اپنی عارضی مگر پرجوش میدانوں میں تبدیل کر لیا ہے۔
لیاری، جسے اکثر "منی برازیل” کہا جاتا ہے، جیسے علاقوں میں یہ ٹورنامنٹ صرف ٹی وی اسکرین تک محدود نہیں رہا۔ یہ ایک تحریک بن چکا ہے۔ مقامی نوجوانوں نے اپنی مدد آپ کے تحت فٹ بال لیگز کا انعقاد شروع کر دیا ہے، جبکہ دیواروں پر لیونل میسی اور کائلین مباپے جیسے عالمی ستاروں کی تصاویر بنا کر اپنے پسندیدہ کھیل سے محبت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
یہ بڑھتی ہوئی سرگرمیاں ایک تلخ حقیقت کو بھی اجاگر کرتی ہیں: کراچی میں فٹ بال کا غیر معمولی شوق موجود ہے، مگر اسے پروان چڑھانے کے لیے پیشہ ورانہ ڈھانچہ ناپید ہے۔ جبکہ دنیا شمالی امریکہ میں ہونے والے میگا ایونٹ کی تیاریوں میں مصروف ہے، کراچی کے ابھرتے ہوئے کھلاڑی اب بھی کچے اور ناہموار میدانوں پر اپنی مہارت دکھانے پر مجبور ہیں۔
19 سالہ بلال احمد، جو اپنی گلی میں میچوں کا اہتمام کرتے ہیں، کہتے ہیں، "ہمارے پاس ٹرف (گھاس) تو نہیں، مگر ہم میں جذبہ بہت ہے۔ جب ہم ورلڈ کپ دیکھتے ہیں تو صرف نتیجہ نہیں دیکھتے، ہم وہ تکنیک سیکھتے ہیں جو اگلی صبح گلی میں آزمانے کی کوشش کرتے ہیں۔”
یہ نچلی سطح کی تحریک زیادہ تر ذاتی خرچ پر چل رہی ہے۔ رہائشی چندہ جمع کر کے فٹ بال خریدتے ہیں یا مٹی کے ڈھیروں پر چونے سے لکیریں کھینچ کر میدان تیار کرتے ہیں۔ یہ صرف کھیل نہیں، بلکہ محلے کی سماجی زندگی کا مرکز ہیں۔ معاشی مشکلات اور جرائم سے متاثرہ اس شہر میں، یہ میچ ایک ایسا غیر جانبدار پلیٹ فارم فراہم کرتے ہیں جہاں صرف اگلا گول ہی اہمیت رکھتا ہے۔
اس تمام تر جوش و خروش کے باوجود، مقامی کوچز حکومتی اور نجی سطح پر سرمایہ کاری نہ ہونے پر نالاں ہیں۔ کھلاڑیوں کی تلاش (اسکاؤٹنگ) کا عمل اب بھی غیر رسمی ہے۔ کراچی کی گلیوں میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں، لیکن یہاں کی گلیوں سے نکل کر پروفیشنل کنٹریکٹ تک پہنچنے کا راستہ آج بھی ایک خواب جیسا ہے۔
فی الحال، شہر کی دیواریں عالمی فٹ بال کے رنگوں میں رنگی رہیں گی اور شام ڈھلے کنکریٹ پر فٹ بال ٹکرانے کی آوازیں گونجتی رہیں گی۔ ورلڈ کپ 2026 شاید ہزاروں میل دور ہو، لیکن کراچی کی گلیوں میں کھیل کا آغاز ہو چکا ہے۔
