بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) نے مستحقین کو خبردار کیا ہے کہ وہ نقد رقوم ہڑپ کرنے والے گروہوں سے ہوشیار رہیں۔ منگل کو جاری ہونے والے ایک ہنگامی الرٹ کے مطابق، دھوکہ باز عناصر جعلی ایس ایم ایس اور فرضی ہیلپ لائن نمبروں کے ذریعے غریب خاندانوں کی رقوم لوٹ رہے ہیں۔
فراڈ کا طریقہ کار سادہ مگر خطرناک ہے۔ مستحقین کو پیغامات بھیجے جاتے ہیں کہ ان کا اکاؤنٹ بلاک ہو چکا ہے یا انہیں کسی نئی "خصوصی امداد” کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ ان پیغامات کا مقصد صارف کو ورغلا کر ان کا پن کوڈ حاصل کرنا یا انہیں ایسے لنکس پر کلک کروانا ہے، جس سے ہیکرز ان کے ڈیجیٹل والٹ تک رسائی حاصل کر سکیں۔
اسلام آباد میں بی آئی ایس پی کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے میڈیا کو بتایا کہ "ہم ایس ایم ایس کے ذریعے کوئی لنک نہیں بھیجتے اور نہ ہی فون پر کبھی پن کوڈ مانگتے ہیں۔” انہوں نے تاکید کی کہ صرف 8171 سے آنے والے پیغامات پر ہی اعتبار کیا جائے۔
ڈیجیٹل سیکیورٹی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ان فراڈز کی کامیابی کی بنیادی وجہ معلومات کا فقدان ہے۔ بی آئی ایس پی کا ادائیگی کا نظام جدید ضرور ہوا ہے، مگر انسانی غفلت اب بھی سب سے بڑی کمزوری ہے۔ دھوکہ باز مہنگائی کے ستائے خاندانوں کی مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہیں اور انہیں مالی ریلیف کا جھانسہ دے کر ان کا اعتماد جیت لیتے ہیں۔
حکومت نے اب واضح کر دیا ہے کہ سرکاری مواصلات صرف 8171 کے نمبر سے ہی ہوں گی۔ اگر کوئی پیغام کسی عام موبائل نمبر سے آئے—خواہ اس میں کتنے ہی پرکشش دعوے کیوں نہ ہوں—تو وہ سراسر دھوکہ ہے۔
ان واقعات سے نہ صرف غریب خاندانوں کی قلیل آمدنی خطرے میں ہے بلکہ سماجی تحفظ کے اس پورے نظام کے وقار پر بھی سوال اٹھتے ہیں۔ جب مستحقین کی رقوم فراڈ کی نذر ہوتی ہیں، تو پروگرام کا بنیادی مقصد یعنی غریب ترین طبقے کو مالی سہارا دینا ہی غیر مؤثر ہو جاتا ہے۔
بی آئی ایس پی نے ہدایت کی ہے کہ مشکوک سرگرمیوں کی اطلاع قریبی ریجنل آفس کو دی جائے، نہ کہ دھوکہ بازوں سے بات چیت کی جائے۔ ہیڈکوارٹر کا پیغام دو ٹوک ہے: اگر کوئی آپ کی ذاتی معلومات مانگے تو کال فوراً کاٹ دیں۔ آپ کی رقم اسی وقت تک محفوظ ہے جب تک آپ کی معلومات آپ کے پاس ہیں۔
