بھارت نے اپنے لڑاکا طیاروں کے انجن مقامی سطح پر تیار کرنے کی جانب اہم قدم اٹھا لیا ہے۔ برطانوی کمپنی رولز رائس نے ایک بھارتی دفاعی ادارے کے ساتھ شراکت داری کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت اب جدید ترین جیٹ انجن بھارت میں ہی تیار کیے جائیں گے۔ یہ پیش رفت نئی دہلی کی فوجی سازوسامان کے حصول کی حکمت عملی میں ایک بڑی تبدیلی ہے۔
اس معاہدے کا بنیادی مقصد ٹیکنالوجی کی منتقلی ہے۔ دہائیوں سے بھارت اپنے لڑاکا طیاروں کے لیے انجن روس یا مغربی ممالک سے درآمد کرنے کا پابند رہا ہے۔ اس نئی شراکت داری سے انحصار کم ہوگا اور مقامی سطح پر تیار ہونے والے طیاروں میں مقامی ساختہ انجن نصب کیے جا سکیں گے۔
دفاعی تجزیہ کار اسے ایک اسٹریٹجک اقدام قرار دے رہے ہیں۔ انجن بنانے کی صلاحیت حاصل کرنے سے نہ صرف غیر ملکی زرمبادلہ کی بچت ہوگی، بلکہ انڈین ایئر فورس کو پرزہ جات کی فراہمی میں تعطل کے مسائل سے بھی نجات ملے گی۔ یہ معاملہ صرف پرزوں کو جوڑنے تک محدود نہیں، بلکہ اس میں دھات کاری اور انجن ڈیزائن کی پیچیدہ مہارتیں شامل ہیں جو اب تک بھارت کی پہنچ سے دور تھیں۔
یہ فیصلہ وزارت دفاع کی ’میک ان انڈیا‘ مہم کا حصہ ہے جس کا مقصد دفاعی خود انحصاری کو بڑھانا ہے۔ اگرچہ معاہدے میں شامل انجن کے ماڈل کو فی الحال صیغہ راز میں رکھا گیا ہے، تاہم صنعت سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ انجن مستقبل کے ان ہلکے لڑاکا طیاروں کے لیے استعمال ہوں گے جو ابھی پروٹوٹائپ کے مرحلے میں ہیں۔
رولز رائس نے معاہدے کی مالی تفصیلات جاری نہیں کیں، لیکن یہ شراکت داری بھارت کے مینوفیکچرنگ انفراسٹرکچر پر کمپنی کے اعتماد کو ظاہر کرتی ہے۔ ماضی میں بھارت کی جانب سے انجن کی مقامی تیاری کی کوششیں اس وقت ناکام ہوئیں جب وہ انتہائی درستگی اور ہیٹ ریزسٹنس (گرمی برداشت کرنے والی) ٹیکنالوجی حاصل نہ کر سکا۔ اس بار برطانوی کمپنی کی تکنیکی نگرانی اس بات کو یقینی بنائے گی کہ تیار ہونے والے انجن عالمی معیار کے مطابق ہوں۔
مقامی سطح پر پیداوار کا عمل راتوں رات مکمل نہیں ہوگا۔ انتہائی دباؤ اور درجہ حرارت برداشت کرنے والے پرزوں کی تیاری کے لیے ماہر افرادی قوت کی تربیت میں برسوں لگ سکتے ہیں۔ تاہم، اس معاہدے نے بھارت کے لیے غیر ملکی انجنوں پر بھاری اخراجات سے بچنے کا ایک واضح روڈ میپ تیار کر دیا ہے۔
اگر یہ منصوبہ اپنے مقررہ اہداف حاصل کر لیتا ہے تو یہ خطے میں دفاعی توازن کو بدل سکتا ہے۔ بھارت اب صرف ایک خریدار کے طور پر نہیں، بلکہ ایک پروڈیوسر کے طور پر اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
