نیویارک میں یونائیٹڈ ہیلتھ کیئر کے سی ای او برائن تھامسن کے قتل کے ملزم، 26 سالہ لوئیجی مینجیون نے عدالت میں اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ہے۔ اس اعترافِ جرم کے ساتھ ہی وہ مقدمہ اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا جس نے امریکی ہیلتھ کیئر انڈسٹری کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔
مینجیون نے جمعرات کے روز مینہیٹن کی عدالت میں 4 دسمبر کو ہونے والی فائرنگ کی ذمہ داری قبول کی۔ اس پلی بارگین کے تحت، ملزم نے بغیر پیرول کے عمر قید کی سزا قبول کر لی ہے، جس سے ایک طویل اور پیچیدہ عدالتی کارروائی کا راستہ بند ہو گیا۔
برائن تھامسن کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ ایک انویسٹر کانفرنس میں شرکت کے لیے ہوٹل جا رہے تھے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں ایک نقاب پوش کو پیچھے سے قریب آتے اور انتہائی قریب سے فائر کرتے دیکھا گیا تھا۔ یہ حملہ کسی اتفاقی واردات کے بجائے ایک سوچی سمجھی ٹارگٹ کلنگ معلوم ہوتا تھا۔
واقعے کے بعد ملزم کے قبضے سے ایک منشور برآمد ہوا جس میں اس نے انشورنس کمپنیوں کے طریقہ کار اور مریضوں کے علاج میں رکاوٹیں کھڑی کرنے پر کڑی تنقید کی تھی۔ مینجیون نے اپنے اس اقدام کو انشورنس کمپنیوں کے مبینہ لالچ کے خلاف ایک احتجاج قرار دیا تھا۔
استغاثہ نے ملزم کے بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے اسے ایک ‘سرد مہری سے کیا گیا قتل’ قرار دیا۔ عدالت میں پراسیکیوٹر نے کہا کہ "ملزم اسے احتجاج کا نام دے سکتا ہے، لیکن قانون اسے صرف قتل ہی مانتا ہے۔”
عدالت میں موجود مقتول کے اہل خانہ نے فیصلے کے بعد اطمینان کا اظہار کیا۔ اگرچہ قانونی کارروائی ختم ہو چکی ہے، لیکن برائن تھامسن کی موت نے امریکی ہیلتھ کیئر سسٹم میں کارپوریٹ ذمہ داریوں اور مریضوں کے حقوق پر جو بحث چھیڑی ہے، وہ اب بھی جاری ہے۔
اعترافِ جرم کے بعد، مینجیون نے کوئی بیان نہیں دیا اور اسے فوری طور پر جیل منتقل کر دیا گیا جہاں وہ اب اپنی عمر قید کی سزا کاٹے گا۔
