لاہور میں پولیس افسران پر حالیہ قاتلانہ حملوں میں ملوث دو اہم ملزمان منگل کی صبح مریدکے کے قریب سی ٹی ڈی کے ساتھ مبینہ مقابلے میں مارے گئے۔
محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے مطابق، ملزمان کی نقل و حرکت کے بارے میں خفیہ اطلاع ملی تھی۔ جب ٹیم نے مریدکے کے نواحی علاقے میں مشتبہ افراد کو رکنے کا اشارہ کیا تو انہوں نے فائرنگ کر دی، جس کے بعد ہونے والے شدید مقابلے میں دونوں ملزمان ہلاک ہو گئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے تبادلے میں کوئی اہلکار زخمی نہیں ہوا۔
یہ واقعہ لاہور میں پولیس پر ہونے والے ان حملوں کے بعد پیش آیا ہے جن میں دو اہلکار شہید اور کئی زخمی ہوئے تھے۔ ان حملوں نے صوبائی دارالحکومت میں سیکیورٹی کی صورتحال پر سوالات اٹھا دیے تھے اور پولیس حکام پر ملزمان کی جلد گرفتاری کے لیے شدید دباؤ تھا۔
موقع سے خودکار اسلحہ، گولیوں کے ذخیرے اور موبائل فونز برآمد کر لیے گئے ہیں۔ تفتیشی ٹیمیں اب ان فونز سے ڈیٹا حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ ملزمان کا تعلق کسی بڑے عسکریت پسند گروہ سے تھا یا وہ کسی مقامی نیٹ ورک کے لیے کام کر رہے تھے۔
صوبائی حکومت نے اس کارروائی کو امن و امان کی بحالی کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا ہے، تاہم انسانی حقوق کے حلقے اکثر ایسے مقابلوں کی شفافیت پر سوال اٹھاتے رہے ہیں۔ پاکستان میں پولیس مقابلوں میں مشتبہ افراد کی ہلاکت کے بعد عدالتی یا غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ ایک معمول بن چکا ہے۔
پولیس کا موقف ہے کہ ملزمان مزید حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے اور انہیں بروقت کارروائی کر کے روکا گیا۔
موقع پر موجود ایک اعلیٰ پولیس افسر نے صحافیوں سے مختصر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "ہم اس نیٹ ورک کے باقی ارکان تک بھی پہنچ رہے ہیں،” تاہم انہوں نے تحقیقاتی تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔
لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے مقامی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔
