شدید خطرے سے دوچار سماٹران اورنگوٹان کو پہلی بار شمالی سماٹرا میں ایک سڑک عبور کرنے کے لیے کینوپی برج استعمال کرتے ہوئے فلمایا گیا ہے۔ ماہرینِ تحفظِ جنگلی حیات کے مطابق یہ ایک بڑی پیش رفت ہے جو جنگلات کے ٹکڑوں میں بٹے ہوئے اورنگوٹان کے مسکن کو دوبارہ جوڑنے میں مدد دے سکتی ہے۔ یہ فوٹیج اس ہفتے جاری کی گئی، جسے سماٹران اورنگوٹان سوسائٹی نے اس نوع کی پہلی دستاویزی مثال قرار دیا ہے۔
یہ واقعہ پاکپاک بہارات ضلع میں پیش آیا، جہاں لگن–پاگنڈار روڈ سریانگاس وائلڈ لائف ریزرو اور سیکولاپنگ پروٹیکشن فاریسٹ کے درمیان سے گزرتی ہے۔ تحفظِ جنگلی حیات کے اداروں کے مطابق اس تقسیم کے باعث تقریباً 350 اورنگوٹان چھوٹے گروہوں میں تقسیم ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں، جو پہلے ہی شدید دباؤ میں موجود نسل کے لیے سنگین مسئلہ ہے۔
یہ برج 2024 میں سماٹران اورنگوٹان سوسائٹی اور مقامی پارٹنر TaHuKah نے انڈونیشین حکام کے تعاون سے تعمیر کیا تھا۔ تقریباً دو سال تک کیمرہ ٹریپس نے اس پر دوسرے جانوروں جیسے بندروں، لنگور اور گبنز کو گزرتے ہوئے ریکارڈ کیا، لیکن کسی اورنگوٹان کو پہلی بار اب دیکھا گیا۔
ویڈیو میں ایک نوجوان نر اورنگوٹان کو احتیاط سے برج پر قدم رکھتے، درمیان میں رکنے اور پھر دوسری طرف جنگل میں داخل ہوتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اس بات کا اہم ثبوت ہے کہ یہ نسل انسانی ساختہ کینوپی لنکس کو استعمال کرنے کے قابل ہے۔
ماہرینِ تحفظ کے مطابق اورنگوٹان درختوں پر رہنے والے جانور ہیں اور ان کی بقا کا زیادہ تر انحصار جنگلات کی چھتری پر ہوتا ہے، اس لیے سڑکیں ان کے لیے خطرناک رکاوٹ بن سکتی ہیں۔ مسکن کی تقسیم ان کی خوراک، نقل و حرکت اور افزائش نسل کو متاثر کرتی ہے۔
دنیا میں اب صرف تقریباً 14 ہزار سماٹران اورنگوٹان باقی بچے ہیں، جس کی وجہ سے یہ دنیا کے سب سے زیادہ خطرے سے دوچار عظیم بندروں میں شمار ہوتے ہیں۔ اس تناظر میں ایک کامیاب کراسنگ کو بھی ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔
اگرچہ یہ واقعہ امید افزا ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل خطرہ اب بھی جنگلات کی مسلسل تباہی ہے۔
