اٹلی کے شہر ویرونا میں واقع ‘میوزیو سیویکو دی کاسٹیل ویکیو’ میں ایک ایسی ڈکیتی ہوئی جس نے آرٹ کی دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ چوروں نے صرف دس منٹ کے اندر 9 ملین یورو مالیت کے 17 شاہکار فن پارے چرا لیے۔
اس چوری میں پیٹر پال روبنز، ٹنٹوریٹو اور پیسانیلو کے نایاب فن پارے شامل تھے۔ میوزیم انتظامیہ کے لیے یہ صرف مالی نقصان نہیں، بلکہ نشاۃ ثانیہ کے دور کے ورثے کا ایک بڑا حصہ چھین لیے جانے کے مترادف ہے۔ چوروں نے بے ترتیب ہاتھ نہیں مارے؛ وہ میوزیم کے نقشے، سیکیورٹی کیمروں کے ‘بلائنڈ سپاٹس’ اور قیمتی ترین پینٹنگز کے ٹھکانوں سے بخوبی واقف تھے۔
تفتیشی اداروں کا ماننا ہے کہ یہ ڈکیتی کسی خاص آرڈر پر کی گئی۔ یہ فن پارے اتنے مشہور ہیں کہ انہیں کھلی منڈی یا نیلامی میں بیچنا ناممکن ہے۔ پولیس کو شبہ ہے کہ یہ چوری کسی نجی کلیکٹر کے لیے کی گئی ہے یا پھر اسے تاوان کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ آرٹ کرائمز میں یہ ایک پرانا حربہ ہے جہاں چور بعد میں انمول فن پاروں کو واپس کرنے کے بدلے بھاری رقم کا مطالبہ کرتے ہیں۔
سب سے بڑا سوال سیکیورٹی کے نظام پر اٹھ رہا ہے۔ میوزیم نے حال ہی میں اپنی نگرانی کا نظام جدید بنایا تھا، لیکن چوروں نے شفٹ کی تبدیلی کے دوران سیکیورٹی سینسرز کو ناکارہ بنایا اور فرار ہو گئے۔ مقامی حکام اب اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ کروڑوں یورو کے ثقافتی ورثے کو اس قدر آسانی سے کیسے نشانہ بنایا گیا۔
کیس سے وابستہ ایک تفتیشی افسر کا کہنا ہے کہ "یہ ایک پیشہ ورانہ کام تھا، جسے ان لوگوں نے انجام دیا جنہوں نے عمارت کے ایک ایک انچ کا مطالعہ کیا تھا۔”
ویرونا کے میئر نے اس واقعے کو "شہر کے دل پر زخم” قرار دیا ہے، لیکن جذباتی بیانات سے کینوس واپس نہیں آئیں گے۔ انٹرپول نے یورپ بھر کی سرحدوں اور نجی گیلریوں کو الرٹ جاری کر دیا ہے، تاہم تلخ حقیقت یہ ہے کہ ایسے فن پارے اکثر بلیک مارکیٹ میں جانے کے بعد دہائیوں تک نجی تہہ خانوں میں غائب ہو جاتے ہیں۔
کاسٹیل ویکیو میوزیم کی دیواروں پر اب خالی فریم لٹک رہے ہیں۔ یہ خالی فریم اس بات کی خاموش گواہی دے رہے ہیں کہ جب سیکیورٹی اپنے دعووں کے مطابق مضبوط نہ ہو، تو تاریخ کو کتنی آسانی سے دیواروں سے اتارا جا سکتا ہے۔
