وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم مصدق ملک نے عوام کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریلیف کی نوید سنائی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بحیرہ احمر اور باب المندب میں سیکیورٹی خدشات کے باعث پھنسے ہوئے تیل کے جہازوں کی بحفاظت آمد سے سپلائی چین مستحکم ہو رہی ہے، جس کا فائدہ براہِ راست صارفین تک پہنچایا جائے گا۔
حکومتی اندازوں کے مطابق ان کارگوز کی بروقت آمد سے مقامی مارکیٹ میں ایندھن کی قلت کا خدشہ ٹل گیا ہے اور لاجسٹک اخراجات میں کمی آئی ہے۔ یہ بہتری آئندہ پندرہ روزہ قیمتوں کے تعین میں ریلیف کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔
گزشتہ کئی ماہ سے بحیرہ احمر کی کشیدہ صورتحال کے سبب تیل بردار جہازوں کو کیپ آف گڈ ہوپ کا طویل راستہ اختیار کرنا پڑا تھا۔ اس طویل سفر نے نہ صرف ترسیل کے دورانیے کو بڑھایا بلکہ انشورنس پریمیم میں بھی نمایاں اضافہ کر دیا، جس کا بوجھ بالآخر پاکستانی صارفین نے اٹھایا۔ اب ان جہازوں کی رکاوٹیں ختم ہونے سے سپلائی کے اخراجات میں کمی آنا شروع ہو گئی ہے۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مصدق ملک نے کہا کہ "ہم ان کارگوز کی لینڈڈ کاسٹ (بندرگاہ تک پہنچنے کی لاگت) کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔ جیسے ہی لاجسٹک چین معمول پر آئے گی، فریٹ اور انشورنس کی مد میں ہونے والی بچت کا فائدہ عوام کو منتقل کیا جائے گا۔”
اگرچہ وزیر پیٹرولیم نے فی لیٹر قیمت میں واضح کمی کا حتمی اعلان نہیں کیا، تاہم ان کا بیان وزارت کے سابقہ دفاعی مؤقف سے مختلف ہے۔ عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمتیں ایک حد میں رہی ہیں، مگر پاکستان میں مقامی قیمتوں پر اثر انداز ہونے والا بنیادی عنصر لاجسٹکس اور روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ رہا ہے۔
دوسری جانب ماہرینِ معاشیات محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ توانائی کے امور کے ماہر ڈاکٹر فرحان علی کا کہنا ہے کہ جہازوں کی آمد خوش آئند ضرور ہے، لیکن حکومتی مالیاتی خسارے کو پورا کرنے کے لیے پیٹرولیم لیوی کا ہدف ریلیف کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔
ڈاکٹر فرحان نے کہا کہ "شپنگ کے اخراجات کم ہوئے ہیں مگر حکومت کے محصولات کے اہداف سخت ہیں۔ جب تک وزارتِ خزانہ ٹیکس وصولی کے اہداف میں نرمی نہیں کرتی، پٹرول پمپ پر ملنے والا ریلیف معمولی ہی رہے گا۔”
اس وقت پیٹرولیم ڈویژن آئندہ قیمتوں کے تعین کے لیے تجاویز کو حتمی شکل دے رہا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ حکومت عوامی ریلیف کو ترجیح دیتی ہے یا محصولات کے اہداف کو۔ تازہ ترین کارگوز کی آمد کے بعد وزارت کے پاس قیمتیں برقرار رکھنے کا کوئی ٹھوس جواز نہیں بچا۔
نئی قیمتوں کا اعلان رواں ہفتے کے آخر تک متوقع ہے، جو اس بات کا پہلا عملی امتحان ہوگا کہ سمندری راستوں کی بحالی کا فائدہ واقعی عام آدمی کی جیب تک پہنچتا ہے یا نہیں۔
