حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کر دیا ہے، جس کے تحت پیٹرول کی قیمت میں 1 روپے 86 پیسے فی لیٹر کمی جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی قیمت میں 3 روپے 32 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا گیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر ہو چکا ہے۔
یہ فیصلہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ اور ملکی ریونیو اہداف کے توازن کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ پیٹرول کی قیمت میں کمی سے عام موٹر سائیکل اور گاڑی مالکان کو معمولی ریلیف ملے گا، تاہم ڈیزل کی قیمت میں اضافے کا بوجھ براہِ راست ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے پر پڑے گا۔
پاکستان میں مال برداری کا زیادہ تر انحصار ڈیزل پر ہے۔ جب بھی ڈیزل مہنگا ہوتا ہے، سبزیوں سے لے کر تعمیراتی سامان تک، ہر چیز کی نقل و حمل کی لاگت بڑھ جاتی ہے۔ ماہرینِ معاشیات کے مطابق، اس اضافے سے اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں مزید تیزی کا خدشہ ہے، جو پہلے ہی عوام کے لیے ایک بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ یہ قیمتیں آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے گزشتہ پندرہ دنوں کے دوران عالمی مارکیٹ میں ریفائنڈ مصنوعات کی قیمتوں کے حساب سے طے کی گئی ہیں۔ حکومتی حکام کے مطابق یہ ایڈجسٹمنٹ "مکمل طور پر مارکیٹ کے اصولوں” کے مطابق ہے، تاہم عام آدمی کے لیے ان عالمی مارجنز کی پیچیدگیوں سے زیادہ اہمیت پمپ پر ادا کی جانے والی قیمت کی ہے۔
ٹرانسپورٹ انڈسٹری کے لیے یہ اضافہ ایک بڑا دھچکا ہے۔ فصلوں کی کٹائی اور سپلائی چین کے موجودہ دباؤ کے دوران، ڈیزل پر آنے والی اضافی لاگت کو ٹرانسپورٹرز آخرکار صارفین تک ہی منتقل کریں گے۔ یوں، پیٹرول میں ملنے والی معمولی بچت، ڈیزل کے باعث ہونے والی مہنگائی کی نذر ہو سکتی ہے۔
یہ نئی قیمتیں اگلے 15 روز تک نافذ رہیں گی۔ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں جاری غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظر، یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ آئندہ جائزے میں حکومت کیا فیصلہ کرے گی۔ فی الحال، صارفین ایک ملے جلے احساس کے ساتھ پیٹرول پمپس کا رخ کر رہے ہیں۔
