ویسٹ انڈیز کے لیجنڈری کرکٹر برائن لارا نے اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت اور طبی سہولیات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں ’مناسب اور آزادانہ‘ طبی امداد تک رسائی دی جائے۔
عالمی کرکٹ کے اس بڑے نام کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عمران خان کی قانونی ٹیم اور ان کے حامی مسلسل یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ 72 سالہ سابق وزیراعظم کو جیل میں بنیادی سہولیات اور ڈاکٹروں تک رسائی سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
برائن لارا کا یہ مطالبہ محض ایک کرکٹر کی حمایت نہیں، بلکہ اس نے اس بحث کو ایک نئی بین الاقوامی جہت دی ہے۔ لارا نے اپنے بیان میں کسی سیاسی وابستگی کے بجائے انسانی ہمدردی کو بنیاد بنایا۔ ان کا موقف ہے کہ قیدی چاہے کوئی بھی ہو، اسے طبی امداد تک رسائی حاصل کرنا اس کا بنیادی انسانی حق ہے۔
دوسری جانب، پاکستانی حکام ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ عمران خان کو جیل میں وہی طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں جو قانون کے مطابق کسی بھی دوسرے قیدی کا حق ہیں۔ حکومتی ترجمانوں کے مطابق، جیل میں ڈاکٹرز کی ٹیم موجود ہے جو باقاعدگی سے ان کا معائنہ کرتی ہے، اور ان کے خلاف لگائے گئے الزامات محض سیاسی پروپیگنڈا ہیں۔
عمران خان اپریل 2022 میں اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد سے ایک طویل سیاسی اور قانونی کشمکش کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ ان پر کرپشن سے لے کر تشدد پر اکسانے تک کے مقدمات قائم ہیں۔ ان کی قانونی ٹیم کا کہنا ہے کہ جیل کی تنہائی اور مناسب طبی نگہداشت کا فقدان ان کی صحت کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔
اب تک کی صورتحال یہ ہے کہ ایک طرف حکومت اپنے قانونی مؤقف پر قائم ہے، تو دوسری طرف برائن لارا جیسے بین الاقوامی شخصیات کی مداخلت نے اس معاملے کو عالمی سطح پر دوبارہ خبروں کی زینت بنا دیا ہے۔
کیا یہ مطالبہ اسلام آباد کے ایوانوں میں کوئی تبدیلی لائے گا؟ یہ دیکھنا ابھی باقی ہے، لیکن اس بیان نے عمران خان کی قید کے معاملے کو کھیلوں کی دنیا سے نکال کر انسانی حقوق کے عالمی مباحثے کا حصہ ضرور بنا دیا ہے۔
